وزارت بین الصوبائی رابطہ کے رویہ سے دلبرداشتہ پی ایس بی کے سینئر آفیسر علی حسن برو ہی نے اپنے عہدے سے استغفی دے دیا

اسلام آباد(سپورٹس ورلڈ نیوز) سُپریم کورٹ آف پاکستان کے توسط  سے بحال ہو کر پاکستان سپورٹس بورڈ میں واپس آنے والے گریڈ19کے آفیسر علی حسن بروہی نے اپنے عہدے سے استغفی دے دیا ہے۔ اپنے استغفی میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کہ وزارت بین الصوابئی رابطہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے واضع ہدایت کے باوجود انہیں گریڈ 20میں ترقی دیکر بحال نہیں کیا اور انکی تذلیل کی جاتی رہی جسپر وہ بطور احتجاج مستغفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا یہ استغفی 2جنوری 2018کو وزارت بین الصوبائی رابطہ کو بھجوایا ہے۔ استغفی میں علی حسن بروہی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب سُپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں انکے ی جانب سے کی جانت والی رٹ پر فیصلہ دیتے ہوئے انکی پاکستان سپورٹس بورڈ میں انڈکشن اور انہیں سنیارٹی کی بنیاد پر انکا حق دیتے ہوئے گریڈ 20 میں بحال کرنے کے احکامات جاری کئے تو وزارت کے حکام نے بظاہر انکا حق تسلیم کیا اور عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ انہیں انکے عہدے پر بحال کر دیں گے۔ مگر بعد ازاں انہوں نے (وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حکام نے ) معزز عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں گریڈ 18دے کر بحال کیا اور پھر گریڈ 19میں ترقی دے کر معزز سُپریم کورٹ آف پاکستان کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں(علی حسن بروہی) کوگریڈ20 میں بھی ترقی دے دی جائے گی اور انہیں عدالتی حکم کی روشنی میں انکے سنیارٹی کو حق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں انکا مقام دیا جائے گا۔  علی حسن بروہی کے مطابق وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حکام کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے باوجود ابھی تک انہیں انکا حق نہیں دیا گیا جسکی وجہ سے انہوں سے اپنے عہدے سے استغفی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی حسن بروہی کے اس استغفی کے حوالے سے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام نے جب اب سے تھوڑی دیر پہلے اپنے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استغفی دے دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا استغفی وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حکام کی جانب سے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے تنگ آکر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزارت نے نہ صرف میری توہین کی ہے بلکہ انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی بھی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے عدالت سے اپنا کیس واپس نہیں لیں گے اور عدالت کے روبرو پیش ہوکر وزارت کے حکام کی زیادتی کی نشاندہی ضرور کریں گے۔ تاہم وہ بطور سرکاری آفیسر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتی پر بطور احتجاج استغفی دے چکے ہیں۔