اسپورٹس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ حوصلہ افزائی کرنی چاہیے سپورٹس نہ ہو تو ہم  جھلے  ہوجائیں گے :  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد ( سپورٹس ورلڈ نیوز)  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اسپورٹس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ حوصلہ افزائی کرنی چاہیے سپورٹس نہ ہو تو ہم  جھلے  ہوجائیں گے، ہم پی سی بی کواسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کیلئے جگہ لینے میں مدد کریں گے ۔ سپریم کورٹ میں شکر پڑیاں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیرسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی بھی عدالت کا حصہ بنے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے دیکھنا ہے کہ شکرپڑیاں نیشنل پارک کا حصہ ہے یا نہیں؟ اگرحصہ ہے تو وہاں اسٹیڈیم کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ پی سی بی اور سی ڈی اے کے مابین ایم او یو پر عمل نہیں ہوسکا۔ پی سی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے کو 50 کروڑ روپے دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایم او یو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، پی سی بی نے جو درخت کاٹے وہ لگانے پڑیں گے، قانون کی خلاف ورزی کر کے اسٹیڈیم کی تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔

چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ پی سی بی کو پارک میں اسٹیڈیم تعمیر کرنے میں دلچسپی نہیں ہے ، نیشنل پارک میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر نہیں ہونی چاہیے، جب چیئرمین پی سی بی بنا توکہاکہ اس سائٹ پراسٹیڈیم تعمیرنہیں ہونا چاہیے،سی ڈی اے کی ذمے داری تھی کہ وہ ہمیں نیشنل پارک میں جگہ ہی نہ دیتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسپورٹس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ حوصلہ افزائی کرنی چاہیے سپورٹس نہ ہو تو ہم  جھلے  ہوجائیں گے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ سی ڈی اے ہمیں سٹیڈیم کیلئے متبادل جگہ دے دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کو متبادل جگہ کیلئے کہہ دیتے ہیں،ہمیں آئے روز اس طرح کے مسائل کا سامنا ہے کلر کہار میں کئی سیمنٹ فیکٹریاں لگانے کی اجازت دے دی گئی، جس کے بعد فیکٹریوں نے اربوں گیلن زیر زمین پانی بے دریغ استعمال کیا۔ ہم آپ کواسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کیلئے جگہ لینے میں مدد کریں گے اور نیشنل پارک میں متاثرہ سائٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرائیں گے۔