کھلاڑی ہو تو سامنے آؤ۔انڈر 23گیمز نے پاکستان کے کھیلوں کے میدانوں میں تاریخ رقم کردی ,پشاور ریجن تیسری بار میجر ٹرافی اپنے نام کرنے کی ہٹ ٹریک مکمل کرلی

تحریر.جہانزیب صدیق  :  خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں کھیلوں کے میدانوں سے لیکر کھلاڑیوں کی بہترین سہولیات بہم پہنچانے کے وعدوں کا ایفا کردیا ،گذشتہ تین سال سے متعارف کی جانے والی انڈر 23گیمز نے پوری دنیا میں دھوم مچادی ،صوبائی حکومت اور ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخوا کا یہ تجربہ کافی حد تک کامیاب رہا ،کھیلوں کے میدانوں کو آباد اور کھلاڑیوں کو کھیلنے کیلئے پرامن ماحول پیداکرنا ایک بڑی نعمت ہے ،جبکہ دوسری جانب صوبے کے اندر سو سے زائد گراؤنڈز کی تیاری اور کھلاڑیوں کی فلاح وبہود کیلئے کئے کارنامے سرانجام دیئے جسکی وجہ سے صوبے میں کھیلوں کی ترقی نے ایک بڑا نام پیدا کردیا ہے، موجودہ حکومت نے کھلاڑیوں کو کھیلنے کیلئے مناسب رہائش ،کیش انعامات اور بہترین کٹس و ٹریک سوٹ کے ساتھ ساتھ کھیلنے کاسامان بھی فراہم کیا ،جسے کھلاڑیوں اور آفیشل نے تاریخی کارنامہ قراردیا ہے،

کھیلوں کے اس میلے کاآغاز تحریک انصاف حکومت نے سال 2016ء میں تجرباتی بنیاد پر کیا تھا اس وقت اس گیمز میں صوبہ بھر سے تقریبا 18ہزار مرد و خواتین اتھیلیٹ نے حصہ لیا تھا اسی تسلسل کو برقراررکھتے ہوئے حکومت سال2017ء میں بھی انڈر 23گیمز کاانعقاد کیا جس میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا گیا تاہم امسال ڈائریکٹوریٹ سپورٹس خیبرپختونخوا نے مربوط حکمت عملی اور نئے ولولے کے ساتھ اس گیمز کی تیسری ایڈیشن کو بھی بڑی کامیابی کے ساتھ منعقد کیا جسکے لئے انہوں نے دو ماہ پہلے تیاریاں مکمل کی تھی اور کھیلوں ک اس میلے کو بہترین ماحول میں منعقد کرنے کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی تھی،اور انہیں مختلف امور کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھی،انڈر 23کے تیسری کامیاب ایڈیشن پرصوبائی حکومت نے ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس کی نہ صرف کارکردگی کو سراہا بلکہ بہترین انتظامات پر آرگنائزنگ کمیٹی کی کاوشوں کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک ، صوبائی وزیر کھیل محمود خان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اعلانیہ طور پر تعریف کی کیونکہ اس بار خواتین کے کھیلوں کی تعداد سترہ اور مردانہ کھیلوں کی تعداد میں اضافہ کرکے 23تک پہنچادی جس میں صوبہ بھر سے 36ہزار کے قریب مرد و خواتین کھلاڑیوں نے بھر پور اندا ز میں حصہ لیا ،

کھیلوں میں آرچری ،بیڈمنٹن، ہاکی، فٹ بال،ووشو، کراٹے ،تھائی کوانڈو،جوڈو، کرکٹ،باسکٹ بال،اتھیلیٹیکس،والی بال،سنوکر،ٹیبل ٹینس،نٹ بال، بیس بال،سکواش، ٹینس،ہینڈ بال اوررسہ کشی شامل تھے،اس گیمز کا آغاز پہلے راؤنڈ میں انٹر ڈسٹرکٹ مقابلے منعقد کئے گئے اور بعد میں کامیاب ٹیموں کے مابین انٹر ریجنل مقابلوں کاا انعقاد کیا گیا ، انڈر 23 گیمز کے تیسری ایڈیشن کے آغاز سے قبل روایتی طور پر فائنل ٹرافی کی رونمائی تقریب منعقد کی گئی جس میں صوبائی وزیر برائے کھیل محمود خان،سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوا محمد طار ق خان،سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوابابر خان ، ڈائریکٹرجنرل سپورٹس خیبرپختونخوا جنید خان، ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا اسفندیا رخان اور مختلف اضلاع کے ڈی ایس اوز و کھلاڑیوں نے شرکت کیں،اور یوں کھیلوں کے سب سے بڑے میلے کے شروعات کردی گئی، دو ماہ پر محیط جاری انڈر 23گیمز 2018ء میں اضلاع اور ڈویژن کی سطح پر فتح یاب ہونے والے ٹیموں نے انٹرریجنل مقابلوں کیلئے کوالیفائی کرلیا۔


انٹر ریجنل مقابلوں کا آغاز صوبائی دارلحکومت پشاور کے قیوم سپورٹس کمپلیکس میں ہوا ۔
صوبہ بھر سے آئے ہوئے تمام اضلاع کے ہزاروں کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی پیش کی، انٹرنیشنل ایتھلیٹ محمد شاہ نے کھیلوں کی مشعل روشن کی اس موقع پر روایتی رقص پیش کئے گئے ‘مارشل آرٹس کے کھلاڑیوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا جبکہ مختلف سکولز کے بچیوں نے پی ٹی شو کا مظاہرہ پیش کیا‘ ان مقابلوں کو پشاور سپورٹس کمپلیکس ، عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس ،پشاور یونیورسٹی، پشاور ایجوکیش بورڈ اور حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں ترتیب دیئے گئے تھے ‘ انڈرر 23گیمز چار روز تک جاری رہا ، مقابلوں کے موقع پر ڈی جی سپورٹس نے خصوصی کمپلینٹ سیل بھی قائم کیا تھا کہ کسی بھی کھلاڑی یا آفیشل کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے تو وہ براہ راست کمپلینٹ سیل میں رپورٹ دے سکتے ہیں تاکہ موقع پر انکے مسئلہ حل ہوسکے، گیمز کو پرامن اور بہتر انداز میں منعقد کرنے کیلئے وولنٹیئرز بھی تعینات کئے گئے تھے،

صوبائی وزیر کا خطاب
صوبائی وزیر برائے کھیل محمود خان نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے ویژن کے مطابق خیبر پختونخوا میں پہلی بار انڈر23 گیمز متعارف کرائے اور مسلسل تیسرے سال یہ تسلسل سے منعقد کئے جارہے ہیں جس سے نئے کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں کھلاڑیوں کو سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کررہے ہیں ‘تحصیل کی سطح پر گراؤنڈز کا جال بچھا دیا ہے ‘ہر کھلاڑی کو اس کا حق مل رہا ہے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونیوالی قائداعظم گیمز اور انٹرپراونشل گیمز میں حصہ لینے والے صوبے کے کھلاڑیوں کو نہ صرف ہرممکن سہولیات دی گئی بلکہ میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں لاکھوں کے نقد انعامات بھی تقسیم کئے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں نئے جمنازیم ، سپورٹس کمپلیکسزاور پشاورکے تاریخی ارباب نیاز سٹڈیم کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے جس کیلئے ایک ارب سے زائد رقم مختص کردی گئی ہے،محمودخان نے کہاکہ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخو اکی کارکردگی قابل ستائش ہے کہ انہوں نے سپورٹس کے میدانوں کو آباد رکھنے میں اپنا اہم فریضہ ادا کررہے ہیں ،محمود خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کھلاڑیوں کے مسائل پر قابو پاتے ہوئے انکے لئے پہلی بار ایجوکیشن سکالرشپ کا آغاز کیا جس سے ہر کھلاڑی اب ٹیشن فری کھیلے گا اور اپنا تعلیم بھی جاری رکھے گا،

اسی طرح 3500کے قریب مرد و خواتین کھلاڑیوں نے اپنے فائنل مقابلوں میں جوہر دکھائے جسے شائقین نے بہت پسند کیا۔انڈر 23گیمز2018ء کا یہ میلہ گذشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچ گیا ،پشاور ریجن نے میجر ٹرافی کا دفاع کرتے ہوئے تیسری بار چیمپئن شپ جیت لی۔ انڈر23 گیمز کے انٹر ریجنل فائنل راؤنڈ میں پشاور نے مردوں کے 21ایونٹس اور خواتین کے 10 ایونٹس میں مجموعی طور پرمردو خواتین کے 31کھیلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے چمپیئن شپ ٹرافی مسلسل تیسری مرتبہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا ‘مردوں کے 26 ایونٹس میں سے پشاور نے 21 ایونٹس میں اور خواتین کے کل 17میں سے 10ایونٹس میں سرخرو رہا ‘ان تین روزہ کھیلوں میں مردان دوسرے سوات تیسرے اور ہزارہ چوتھے نمبر پر رہا،کوہاٹ نے پانچویں ،بنوں نے چھٹی جبکہ ڈی آئی خان ریجن ساتویں نمبر پر رہی،

صوبائی وزیر کھیل محمود خان نے انعامات تقسیم کئے ان کے ہمراہ سیکرٹری سپورٹس طارق خان،ایڈیشنل سیکرٹری محمد بابر خان ،ڈائریکٹرجنرل سپورٹس جنید خان ، ڈائریکٹریوتھ اسفندیار خان خٹک سمیت دیگراہم شخصیات موجود تھیں ۔نتائج کے مطابق خواتین کے مقابلوں میں مردان نے تین کھیلوں میں اول اور گیارہ کھیلوں میں دوسرے جبکہ ہزارہ نے خواتین کے تین کھیلوں میں پہلی اور ایک میں دوسری پوزیشن حاصل کی ‘سوات نے خواتین کی ان کھیلوں میں ایک میں اول اور ایک میں دوسری پوزیشن جبکہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان نے خواتین کے کھیلوں میں ایک ایک کھیل میں دوسری پوزیشن حاصل کی ‘مردوں کے ایونٹس میں کراٹے ‘ریسلنگ ‘ویٹ لفٹنگ‘بیڈمنٹن ‘ٹینس ‘سکواش ‘باکسنگ‘موئی تھائی ‘کراٹے فل کنٹیکٹ‘ووشو‘سوئمنگ‘سائیکلنگ ‘باسکٹ بال ‘ہینڈ بال ‘ہاکی ‘رسہ کشی ‘آرچری ‘جوڈو ‘ایتھلیٹکس‘ہینڈ بال اور جمناسٹک میں پشاور نے ٹرافیاں جیتیں‘ جبکہ فٹبال اور ٹیبل ٹینس کے ایونٹ سوات ‘کبڈی مردان‘تائیکوانڈو میں کوہاٹ کی ٹیمیں ونر رہیں ‘تائیکوانڈو میں ڈیرہ اسماعیل خان رنر اپ رہا ‘والی بال کی ٹرافی بنوں نے جیتی جبکہ سوات رنر اپ رہا ‘رسہ کشی میں ہزارہ نے پشاور کو شکست دی ‘سکواش میں پشاور نے مردان کو ہرایا جبکہ نیٹ بال میں سوات نے مردان کو شکست دی ‘جوڈو کے ایونٹ میں مردان نے تین گولڈ میڈلزجیت کر ٹرافی اپنے نام کی‘کوہاٹ رنر اپ رہا ‘بنوں نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی‘ووشو کے خواتین کے مقابلوں میں پشاور نے پانچ گولڈ میڈلز ‘تین سلوراور دو برانز میڈلز کیساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی‘

مردان نے تین گولڈ ‘ایک سلور اور چار برانز میڈلز کیساتھ دوسری اور ہزارہ نے دو سلور اور پانچ برانز میڈلز کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی‘خواتین کے ایتھلیٹکس مقابلوں میں پشاور نے چالیس پوائنٹس کیساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی جس میں تین گولڈ‘چھ سلور اور ایک برانز میڈل شامل تھے‘مردان نے 38 پوائنٹس کیساتھ دوسری پوزیشن اپنے نام کی ‘پوزیشن کا فیصلہ پوائنٹس کی بنیاد پر کیا گیا جس پر پشاور نے پہلی پوزیشن حاصل کی‘مردوں کے باکسنگ کے مقابلوں میں پشاور نے چھ گولڈ ‘ایک سلور اور ایک برانز میڈل کیساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ‘سوات نے تین گولڈ ‘دو سلور اور دو برانز میڈلز کیساتھ دوسری جبکہ ہزارہ نے ایک گولڈ ‘تین سلور میڈلز کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ‘کرکٹ کے خواتین کے فائنل میں پشاور نے ایک گیند قبل چار وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کی پشاور نے فائنل میں مردان کو شکست دی ‘سوئمنگ کے ایونٹ میں پشاور نے سات گولڈ‘چھ سلور ‘دو برانز میڈلز اور 104 پوئاٹنس کیساتھ پہلی‘مردان نے دو گولڈ ‘تین سلور اور تین برانز اور 63 پوائنٹس کیساتھ دوسری اور ہزارہ نے ایک برانز میڈلز کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی سائیکلنگ میں پشاور نے تین گولڈ ‘ایک سلور اور ایک برانز میڈلز اور 106 پوائنٹس کیساتھ پہلی ‘مردان نے ایک سلور اور ایک برانز میڈلز کیساتھ دوسری جبکہ سوات نے ایک سلور میڈلز کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔


اختتامی تقریب کے موقع پر کلچر ڈانس، پولیس بینڈ، پی ٹی شو،کراٹے شو، ائر گلائیڈر شو جبکہ آتش بازی کے مظاہرے نے آسمان کو رنگ و نور سے سجادیا ، دوسری جانب قیوم سپورٹس کمپلیکس کو قممقوں سے سجایا گیا تھا،سیکورٹی کی غیر معمولی انتظامات نے اس گیمز کو بام عروج پر پہنچادیا ۔واضح رہے کہ اس بار انڈر 23گیمز میں معذور افراد کو بھی برابری کی بنیاد پر کھیلنے کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ اس امید کے ساتھ کہ اگر اگلے ہونے والے عام انتخابات میں صوبے کے اندر جو بھی حکومت آئے انڈر 23جیسے کھیلوں کے میلوں کا انعقاد اور کھلاڑیوں کو ملنے والی سہولیات کا سلسلہ یو ں ہی جاری و ساری رہ سکے۔

ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخو اکا کھلاڑیوں کو خطاب
ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا جنید خان نے اختتامی تقریب کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ کھیلوں کے میدانوں کی نگرانی کے لئے مقامی سطح پر منتخب نمائندوں اور ضلعی شعبہ کھیل کے حکام وکھلاڑیوں پر مشتمل نگرانی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں کمیٹیوں کے ممبران کو تربیت دی گئی ہے گراؤنڈز کی دیکھ بھال اور ٹورنامنٹ وغیرہ وفیسوں کا تعین یہی کمیٹیاں کریں گی، انہوں نے کہا کہ اے کیٹگری گراؤنڈز میں سیاسی جلسوں اور جلوسوں پر مکمل پابندی ہوگی جس کے لئے تمام ضلعی انتظامی افسران کوتحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے کہ کسی اے کیٹگری گراؤنڈ میں سیاسی جلسوں کے لئے این او سی جاری نہ کرے۔کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو دی جانے والی انعامی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے انکا کہناتھاکہ اب ایک جامع پیکیج کے تحت میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو تعلیمی وظائف دیئے جارہے ہیں جس کا اطلاق سال 2016ء میں نمایاں کارکردگی کے حامل میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو وظائف کی فراہمی کردی گئی،

خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو میٹرک تک ایک ہزار روپے ماہانہ، ایف اے، ایف ایس سی تک دو ہزار روپے ماہانہ، بی اے، بی ایس سی والوں کو تین ہزار روپے ماہانہ جبکہ ماسٹرز کرنے والوں کو چار ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے جو کھلاڑی مقابلوں کے لئے باہر جاتے ہیں ان کے لئے سپانسر شپ کا بندوبست کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ صوبے بھر میں 20 سکول گراؤنڈ بھی بنائے گئے ہیں جبکہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے 30 مزید منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں ان ڈور گیمز ہال حیا ت آآباد سپورٹس کمپلیکس، ہنگو اور مردان میں ہاکی ٹرفس کی تنصیب، بنوں، کوہاٹ اور ڈیر اسماعیل خان میں اتھلیٹکس ٹریکس کی تنصیب وغیرہ شامل ہیں ان30 منصوبوں پر مجموعی طو رپر 72کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔