صدر ڈی ایچ اے سکھر راتوں رات فارغ .خالد سجاد کھوکھر منتحب ڈی ایچ ایز عہدیداروں کی جگہ من پسند افراد کو لگاکر پی ایچ ایف کا سوا ستیا ناس کرنے پر تُل گئے

سکھر(سپورٹس ورلڈ نیوز) صدر پی ایچ ایف بریگیڈئر (ر) خالد سجاد کھوکھر نے اپنے ہی چھتر چھایا میں ہونے والے پی ایچ ایف کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے عہدیداروں کو چند ہفتے بعد ہی انکے عہدوں سے ہٹانے اور انکی جگہ من پسند اور سفارشی افراد کو لگاکر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا سوا ستیا ناس کرنے پر تُل گئے ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال انکی جانب سے جاری کردہ ہدایت پر سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر جمالی کی جانب سے پی ایچ ایف کے نامزد کردہ الیکشن کمیشن اور صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی زیر نگرانی ہونے والے ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشنز کے انتخابات کے نتیجہ میں منتحب ہونے والے سکھر ڈسٹرکٹ ہاکی ایسوسی ایشن کے  نو منتحب صدر محمد اشرف راجپوت کو چند ہی ہفتوں بعد ہٹا کر انکی جگہ سابق صدر عارف محمود کوغیر قانونی طور پر ڈی ایچ اے سکھر کا صدر بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر نا ہے۔ پی ایچ ایف اور سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق سندھ ہاکی کے معاملات میں گند ڈالنے کی یہ ہدایت براہ راست صدر پی ایچ ایف خالد سجاد کھوکھر نے سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی سفارش پر دی ہے جنکا تعلق بھی سکھر سے ہے ۔ ذرائع کے مطابق خورشید شاہ ہی کی ہدایت پر چند ہفتے قبل ڈی سی سکھر نے خود جا کر ہاکی گراونڈ کا قبضہ بھی سابق صدر ڈی ایچ اے  عارف محمود کو دلوایا تھا۔اب انہی کے فون پر نو منتحب ڈی ایچ اے کو بھی ہٹایا گیا ہے۔ ادھر سکھر ہاکی ایسوسی ایشن کے ذمہ دار ذرائع کا بتا نا ہے کہ سکھر میں الیکشن سے قبل مسٹر راجپوت اور عارف محمود دونوں ایک ہی دحرے میں تھے اور انہوں نے ملکر قران پر حلف لیا تھا کہ وہ سندھ ہاکی کے سیکر ٹری مسٹر جمالی کی مخالفت کریں گے مگر بعد میں صدر پی ایچ ایف خالد سجاد کھو کھر کے انوکھے لاڈلے نے سکھر میں جا کر گند ڈالا اور وہاں وہاں ہاکی فیملی کو اسی طرح تقسیم کیا جیسے اسنے کراچی میں کیا تھا اور مسٹر راجپوت کے زیر سایہ ایک الگ دھڑا کھڑا کر کے عارف محمود کو ہروا دیا ۔  کامران اشرف کے سند ھ ہاکی میں ڈالے ہوئے گند کے نتیجہ میں اب صدر پی ایچ ایف خالد سجاد کھوکھر کو کراچی اور سکھر کے بعد اور کہاں کہاں شہباز سینئر اور کامران اشرف کا ڈالا ہوا گند صاف کرنا پڑے گا یہ تو ایک ایک کر کے سامنے آتا ہی جا رہا ہے۔ کیونکہ پنجاب کے چھ اضلاع۔اسلام آباد اور کے پی کے میں ہر جگہ خالد سجاد کھوکھر کے انوکھے لاڈلوں سے تنگ اور انکی گھٹیا سیاست کے ستائے ہوئے لوگ اب ایک ایک کر کے خالد سجاد کھوکھر کو جہاں عدالتوں میں لے جانے پر تُل گئے ہیں وہیں کچھ لوگ معاملات کو  نیب میں بھی لے جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔