سید عون عباس – پاکستانی سپن باولنگ کا متوقع درخشاں ستارہ

لاہور (سپورٹس ورلڈ نیوز۔رپورٹ آغا محمد اجمل)  پاکستان کرکٹ کا عالمی فاتح ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کے نامور
بیٹسمین اور فاسٹ باولر کرکٹ کے متوالوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ اسی طرح سپن باولنگ میں پاکستان نے کئی نامور کھلاڑی پیدا کیے جن میں سرفہرست گگلی ماسٹر جادوئی لیگ سپنر عبدالقادر، مشتاق احمد، دوسرا کے خالق ثقلین مشتاق، بیٹسمینوں کے لیے درد سر سعید اجمل، آف سپننگ میں عبدالرحمٰن اور دانش کنیریا کے نام عالمی افق پر کسی تعرف کے محتاج نہیں ہیں۔ اسی طرح یاسر شاہ پاکستانی کرکٹ کی نئی دریافت ہے۔
پاکستان سپر لیگ کی بدولت حالیہ برسوں میں ایک نئی پود سامنے آئی ہے جو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھنے میں پر عزم ہے۔ نئے ٹیلنٹ کو قومی اور بین الااقوامی سطح پر متعارف کروانے میں لاہور قلندر کے کردار کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی۔ جس طرح سے لاہور قلندر کی انتظامیہ نے ملک بھر میں نئے ٹیلنٹ کو متعارف کروایا ہے اس کا اعتراف پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے بھی کیا ہے۔ پچھلے دنوں راولپنڈی سٹیڈیم میں لاہور قلندر نے ٹیلنٹ ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیمپ لگایا۔ ان دنوں فٹ بال کے حوالے سے میں اسلام آباد میں مقیم تھا ۔ حلقہ یاراں کے اصرار پر میں بھی کیمپ کی کاروائی و طریقہ کار کو دیکھنے کے لیے گراونڈ میں موجود تھا۔ نواحی علاقوں سے آئے نوجوانوں کی کثیر تعداد اپنی آنکھوں میں سجائے سپنوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ماہرانہ آنکھوں سے نواز کر خدا داد بنانے کی تاک میں تھے۔
صلاحیت ہمیشہ اعتماد کے در سے گزر کر ہی ستائش کے موتی سمیٹتی ہے۔ ایسے ہی ایک اعتماد نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کروالی۔ بائیس سالہ نوجوان انتہائی اطمینان کے ساتھ ایک طرف بال کے ساتھ مسلسل اٹھکیلیاں کر رہا تھا جب کہ دورے جوان اپنی باری کے انتظار میں جتے ہوئے تھے۔ یاد رکھیں اعتماد کسی باری کے انتظار میں نہیں ہوتا وہ تو بس موقع دیکھتا ہے اور ستائش کے ستارے اپنے دامن میں سجا لیتا ہے۔ میں پراشتیاق نگاہوں سے اس لڑکے کی باری کا انتطار کرنے لگا۔ مائیک پر سید عون عباس ، کھرانگ گاوں تحصیل کہوٹہ کا جب نام لیا گیا تو وہ لڑکا ہاتھ میں بال کو تھامے پچ کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے چلنے کے انداز میں یاسر شاہ کی جھلک نظر آرہی تھی۔اس کی پہلی ہی ڈلیوری نے ماہرانہ نظروں سے گزر کر ان کے دلوں کو گرویدہ کر دیا۔ جس مقصد کے لیے لاہور قلندر نے پوٹوہار کی سرزمین پر قدم رکھے تھے وہ مقصد پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔
میں اس لمحے کو اپنا اثاثہ بنا رہاہوں انشاء اللہ سید عون جب عالمی افق پر جگمکائے گا تو میں فخر سے کہ سکوں گا کہ میں اس کے طلوع ہونے کاچشم دید گواہ ہوں