ڈی ڈی جی پی ایس بی ڈاکٹر وقار کی تنزیلی ڈرامہ سیکرٹری آئی پی ایس جمیل احمد کا نام استعمال کئے جانے کا انکشاف، جمیل احمد نے تمام ریکارڈ طلب کرلیا

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان اسپورٹس بورڈ(پی ایس بی)انتظامیہ کی جانب سےسینیارٹی لسٹ چیلنج کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی کے لیے سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ جمیل احمدکا نام استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب متاثرہ افسر کو سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے مشورے بھی دیے جار رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ایس بی کے سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وقار احمد کو چار برس پرانی یک طرفہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر گریڈ 19 سے تنزلی کر کے گریڈ 18میں ڈائریکٹر کی پوسٹ پر تعینات کر دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر وقار کو بتایا گیا کہ ان کی تنزلی کا فیصلہ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ جمیل احمد نے کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وقار کی تنزلی کا معاملہ ذاتی مخالفت کی بنیاد پر کروایا گیا۔ ڈاکٹر وقار احمد تجربے کے اعتبار سے پی ایس بی کے سینئر موسٹ ڈپٹی ڈی جی ہیں، تاہم پی ایس بی انتظامیہ نے ڈیپوٹیشن پر آ کر غیر قانونی طور پر ضم ہونے والے افسر منصور علی خان کو سینئر موسٹ ظاہر کرنے پر ڈاکٹر وقار نے احتجاج کرتے ہوئے پی ایس بی انتظامیہ کو خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ مدت ملازت اور ترقی کے اعتبار سے وہ سینئر موسٹ ڈپٹی ڈی جی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہی خط ڈاکٹر وقار کے پی ایس بی انتظامیہ سے اختلافات کا باعث بن گیا، جس کے بعد انہوں نے چار برس پرانی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر ڈاکٹر وقار کی ترقی کو غیر قانونی قرار دلوا کر ان کی تنزلی کروا دی۔ ذرائع کے مطابق پی ایس بی انتظامیہ نے مبینہ طور پر سابق قائم مقام ڈی جی نے ملی بھگت سے سابق سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ سے ڈاکٹر وقار کے خلاف فیصلے پر دستخط حاصل کیے۔ اس مقصد کے لیے ایسے دن کا انتخاب کیا گیا جو سابق سیکرٹری کا اس دفتر میں آخری دن تھا اور وہ اپنے عہدے کی مدت مکمل کر کے جا رہے تھے۔ اس کے بعد سابق سیکرٹری کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کرنے کی بجائے اسے روک لیا گیا اور نئے سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ جمیل احمد کے عہدہ سنبھالنے کے ایک ماہ بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے پی ایس بی انتظامیہ نے ڈاکٹر وقار کی تنزلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہ فیصلہ موجودہ سیکرٹری نے کیا ہے اور انہیں بلواستہ طور پر شہ دی گئی کہ وہ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر کے فیصلے پر عمل درآمد رکوا لیں۔ یوں پی ایس بی انتظامیہ نے ایک تیر سے دو شکار کیے گئے۔ ایک جانب ڈاکٹر وقار کو سینیارٹی سے محروم کر دیا گیا تو دوسری جانب ایک غلط فیصلے کا الزام سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ جمیل احمد پر لگا کر انہیں ڈاکٹر وقار کے ذریعے عدالت لے جانے کے لیے میدان تیار کیا گیاہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ڈاکٹر وقار نے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل براہ راست سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ کو تحریری اپیل پیش کر دی، جس کے بعد وزارت نے ڈاکٹر وقار کے کیس پر نظر ثانی کے لیے ان کی پرسنل فائل وزارت منگوا لی ہے، جس پر آئندہ چند روز میں فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر وقار نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ اس غلط فیصلے میں اپنا نام استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس فیصلے کو واپس کروا تے ہوئے مجھے میرا جائز حق دلوائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر وزارت نے انہیں انصاف نہ دیا تو ان کے پاس عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔