میچ فکسنگ ،بے جا خوداعتمادی،لاپروائی ،باہمی چقپلش ،ٹیم سپرٹ کی کمی ،ڈسپلن کا فقدان ،کوچنگ اسٹاف کی دفاعی حکمت عملی،ورلڈ کپ کیلئے سرفرازکپتان برقرار رکھنےکا اعلان ” سینئرز پلیرز نے بے توقیری لے لیا بدلہ…..؟

تحقیقاتی رپورٹ :اصغر علی مبارک سے
میچ فکسنگ یا ورلڈ کپ کیلئے سرفراز احمد کو برقرار رکھنےکا فیصلہ، پاکستانی سینئرز پلیرز نے اپنی بے توقیری بدلہ لے لیا ؟ ورلڈ کپ کیلئے سرفراز احمد کو برقرار رکھنے کا چیرمین پی سی بی کا اعلان” وننگ کمبی نیشن میں لے آیا بحران”، کپتانی سینئر کھلاڑیوں کے مابین تنازعہ ، ون ڈے کرکٹ سے بےدلی کے ساتھ ریٹائر منٹ کا اعلان کرنے والے اظہر علی کی ٹیم کی فتح سے عدم دلچسپی ، کھلاڑیوں کی بے جا خوداعتمادی،لاپروائی ،باہمی چقپلش ،سینئرز کی بے توقیری ،ٹیم سپرٹ کی کمی ،ڈسپلن کا فقدان ،کوچنگ اسٹاف کی دفاعی حکمت عملی، اعتماد سے آری پاکستانی ٹیم ، نیوزی لینڈ کے کم تجربہ کاربالروں کے سامنےتجربہ کارپاکستانی تجربہ کر بتئنگ لائن فیل ،بتئنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہو ئ ،یہ ہیں وه سوالات جو سوشل میڈیا پرشائقین کرکٹ اٹھارہے ھیں کہ کس طرح چمپین ٹیم نے آسانی سے جیتا ہوا میچ پلیٹ میں رکھ دیدیا تفصیلات کے مطابق تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے مقابلے میں کیویز اور بلیک کپیس کے نام سے مشہور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد شاہینوں ،گرین شرٹس کے نام سے منسوب پاکستان کرکٹ ٹیم منه سے فتح کا نوالہ چھین لیا نیوزی لینڈ نے پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 4 رنز سے شکست دےکے سیریز میں برتری حاصل کرلی ھے اس سال یہ تیسرا موقع تھا جب پاکستانی ٹیم کم ترین ھدف کو حاصل میں کامیاب نہ ہوسکی پاکستان کی اس ھوم سیریز کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا تھا۔پاکستان کے ایک لیے ٹیسٹ کرکٹ میں 176 رنز چھوٹا سا ہدف کوہ ھمالیہ پہاڑ بن گیا۔ جس سر کو کرنا پاکستانی پلیرز کیلئے مشکل ہوگیا دن کے آغاز پر پاکستان نے 37 رنز بغیر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہوئے اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو 40 کے مجموعی اسکور پر امام الحق 27 رنز بنانے کے بعد مین آف دی میچ اعجاز پٹیل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔پہلی وکٹ گرنے کے بعد محمد حفیظ 10 رنز بنانے کے بعد 44 کے مجموعے جبکہ حارث سہیل 48 رنز پر آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔تجربہ کار اظہر علی اور اسد شفیق نے ر 82 رنز کی پارٹنر شپ قائم کرتے ہوئے سکور آگے بڑھایا تاھم کھانے کے وقفے سے پہلے اسد شفیق 46 رنز بنانے کے بعد وینگر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے تھے، وقفے کے بعد کپتان سرفراز احمد 3 جبکہ بلال آصف، یاسر شاہ اور حسن علی کے صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد جیت تمام امیدیں اظہر علی سے لگ گئیں لیکن ایک درجن اورز میں محض بارہ رنز بنا سکے اور ہدف سے 5 رنز قبل اظہر علی اعجاز پٹیل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ پاکستان کے کرڑوں شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر گے ہوگئے اعجاز پٹیل نے دوسری اننگز میں پاکستان کے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا پہلی اننگز میں بلے بازوں کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کے بدولت پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بھاری برتری کا نادر موقع گنوا دیا تھا اور نیوزی لینڈ نے میچ میں شاندار انداز میں واپسی کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔

پاکستانی باؤلرز کی شاندار باؤلنگ کی بدولت پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 153 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئی تھی۔تاہم پاکستانی ٹیم کیویز کی پہلی اننگز کے کم اسکور کے مقابلے میں صرف 227 رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اور صرف 74 رنز کی برتری ہی حاصل کر پائی تھی۔دوسری اننگز میں یاسر شاہ اور حسن علی کی باؤلنگ کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 249 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور 74 رنز کے خسارے کے باعث پاکستان کو 176 رنز کا ہدف ملا تھا۔پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میچ میںاپنی ٹیسٹ میچوں کی تاریخ کے کم ترین مارجن چار 4رنز سے شکست ہوئی ۔ ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ کے چوتھے روز قومی ٹیم بلے باز امام الحق 27 رنز، محمد حفیظ 10 رنز ، حارث سہیل ، 4 ،اسد شفیق 45رنز ، بابر اعظم ب 13رنز ، سرفرا ز احمد 3رنز ، بلال آصف صفر ،یاسر شاہ صفر ،حسن علی چھکا لگانے کی کوشش کرتے ہوئے آﺅٹ ہوگئے ،اس سے قبل کھیل کے تیسرے روز نیوزی لینڈ کی ٹیم دوسری اننگز میں 249 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئی اور پاکستان کو جیت کیلئے 175 رنز کا ہدف ملا۔کیویز نے تیسرے روز کھیل کا آغاز 56 رنز ایک کھلاڑی آﺅٹ سے دوبارہ کیا تو کپتان کین ولیمسن 27 اور جیت راول 26 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔دونوں بلے باز محتاط انداز اپناتے ہوئے سکور کو آگے بڑھاتے رہے تاہم 86 کے مجموعے پر ولیمسن یاسر شاہ کا شکار بن گئے، وہ 37 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے۔اوپننگ بلے باز جیت راول اور روس ٹیلر نے بیٹنگ لائن کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ٹیلر کی اننگز 19 رنز تک ہی محدود رہی جنہیں حسن علی نے آﺅٹ کیا۔اکستانی باﺅلروں کےخلاف مزاحمت کرنےوالے اجیت راول بھی 46 رنز پر ہمت ہار گئے، پانچویں وکٹ پر ہنری نکولس اور بی جے واٹلنگ نے ذمہ دارانہ انداز اپنایا اور 112 رنز کی شراکت قائم کی لیکن 220 کے مجموعی سکور پر نکولس 55 رنز بناکر یاسر شاہ کا شکار بنے جسکے بعد نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر لڑکھڑاگئی۔یاسر شاہ نے گرینڈ ہوم کو 3، واٹلنگ کو 59 اور ویگنر کو صفر پر آﺅٹ کیا۔سودھی 18 اور ٹرینٹ بولڈ بغیر کوئی رن بنائے حسن علی کا شکار بنے، پاکستان کی جانب سے حسن علی اور یاسر شاہ نے شاندار باﺅلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5، 5 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔نیوزی لینڈ کی جانب سے 175 رنز کی سبقت حاصل کی اور پاکستان کو جیت کیلئے 176 رنز کا ہدف دیا ہے۔کیویز کی جانب سے دوسری اننگز میں واٹلنگ 59، نکولس 55 اور راول 46 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 153 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی جسکے بعد قومی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں بابر اعظم کی نصف سنچری کی بدولت 227 رنز بنائے تھے۔ پاکستان کو نیوزی لینڈ کےخلاف آٹھ سال بعد پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت کا انتظار ہے، 2011 ءمیں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ایک صفر سے شکست دی تھی اور دونوں ٹیموں کے درمیان چار سال پہلے امارات میں ہونےوالی ٹیسٹ سیریز1-1سے برابر رہی تھی۔