قومی سپورٹس پالیسی پرعملدرآمد سپورٹس مسائل کا واحد حل ہے، سپورٹس مافیاز حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں ،انہیں آہنی ہاتھوں سے روکنا ہوگا : بر یگیڈ ئر(ر) عارف صدیقی

اسلام آباد (سپورٹس ورلڈ نیوز) پی ایس بی کے سابق ڈی جی بریگیڈئر (ر) عارف صدیقی نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ کو لیکرپی ایف ایف فیصل صالح حیات اور انکے گروپ کی جانب سے میڈیا میں پاکستان فٹبال پر بین کے شوشہ نے ایکبار پھر 2005 کی نو تشکیل شدہ قومی سپورٹس پالیسی کی اہمیت کو ثابت کر دیا ہے ،لہذا حکومت کو نئی سپورٹس پالیسی کے چکر میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کی بجائے کھیلوں کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے فوری طور پر قومی سپورٹس پالیسی کو اس کی حقیقی روح کے مطابق لاگو کرنا ہوگا۔بریگیڈئر (ر) عارف صدیقی آج یہاں اسلام آباد میں سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو ایک خصوصی انٹر ویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو فیصل صالح حیات آج ملک کی سب سے بڑی اور معتبر ترین عدالت کے فیصلہ کودل سے ماننے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا میں خبریں چھپوا کر کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہونے والے پی ایف ایف کے انتخابات کے نتیجہ میں فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال پرپابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ وہ شائد بھول رہے ہیں وہ پاکستان کے شہری ہیں اور ریاست پاکستان کے جاری کردہ پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں اور ان پر پاکستان کے قوانین بھی لاگو ہوتے ہیں ریاست پاکستان کی مرضی کے بغیر نہ تو وہ خود ملک سے باہر سفر کر سکتے ہیں نہ ہی انکی کوئی ٹیم پاکستان سے باہر سفر کر سکتی اور پاکستان کا کلر اور نام استعمال کرسکتے ہیں۔فیفا کے ساتھ پاکستان فٹبال فیدریشن کا الحاق ہے نہ کہ فیصل صالح فیڈریشن کا۔ بریگیڈئر (ر) عارف صدیقی کا سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے مذید کہنا تھا کہ اس ملک میں عجیب دھکا شاہی ہے ،جس کو سپورٹس میں عہدہ مل جاتا ہے نہ تو کام کرتا ہے اور نہ فیڈریشن کی جان چھوڑنے کا نام لیتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں سپورٹس پالیسی بنائی گئی اس وقت صدر مشرف کے کہنے پر انہوں نے ہی فرانس میں بیٹھے ہوئے فیصل صالح کو پی ایف ایف کا صدر بنوانے میں کلیدی کرادار ادا کیا تھا ،انہوں نے بتایا کہ اسوقت کے وزیر کھیل رئیس منیرکی ہدایت پر انہوں نے ہی جماعت اسلامی کے راہنما حافظ سلیمان بٹ کی معاونت سے فیصل صالح حیات کے لئے صدرات کی راہ ہموار کی۔وگرنہ یہ وہی فیصل صالح حیات تھے جو اس سے قبل بے نظیر دور میں وزیر رہتے ہوئے سابق گورنر سے میاں اظہر سے فٹبال فیدریشن کے الیکشن ہار گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب میں یہ صورتحال دیکھتا ہوں کہ مجھے خود پر بھی غصہ آتا ہے کہ میں نے فیصل صالح حیات اور جنرل (ر) عارف حسن کو سپورٹ کیا۔ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ ماضی کے سپورٹس مافیا سے جان چھڑا کر ہم نے اپنے طور پر اچھا کام کیا تھا ۔اور آئندہ کے لئے مافیاز کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی بھی کی ۔ مگر بد قسمتی سے بعد میں آنے والے پی ایس بی کے نالائق اور کرپٹ افسران کی وجہ سے قانون ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ۔ان تمام سالوں میں پی ایس بی میں ایک بھی قابل افسر آجاتا تو ان لوگوں کو من مانی کرنے سے روکا جاسکتا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں بریگیڈئر(ر) عارف صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ افراد ریاست اور اسکے قوانین کو ہوا میں اُڑاتے رہتے ہیں اور ریاستی ادارے اپنا تماشا بنا دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ان لوگوں کی ہمت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ کے بعد اب یہ لوگ ریاست اور ایک انداز میں عدلت کو عالمی تنظیموں کی دھمکی دیتے ہیں ۔کہ اگر وہ ہٹے تو ریاست پر پابندی لگ جائے گی۔ بدقسمتی سے میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں ،میں سروس میں ہوتا اور یہ لوگ ایسی بات کرتے تو میں انہیں بتاتا کہ ریاست کسے کہتے ہیں اور اسکے قوانین کیا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جنرل(ر) عارف حسن اور فیصل صالح حیات دونوں کو جب ملکی قوانین پر عملدرآمد کا کہا جاتا ہے تو کوئی فیفا کو بیچ میں لے آتا ہے تو کوئی آئی او سی کو بیچ میں لا کر ریاست اور ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان خود ایک سپورٹس مین ہیں اس ملک کا نوجوان طبقہ اورکھلاڑی ان سے سپورٹس میں بہتری کے حوالے سے بہت سی امیدیں وابسطہ کئے ہوئے ہے۔ اور وہ(وزیر اعظم) اپنے طور پر اس معاملہ کو حل کرنے کی کوشش میں ہیں مگر میرا تجربہ کہتا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کسی لمبی چوری اور نئی راکٹ سائنس ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایماندار ڈی جی پی ایس بی ۔اس کے اوپر ایماندار جے ایس سپورٹس اور سیکرٹری پر مشتمل چین بنانے کی ضروت ہے جسے ہائر اینڈ فائر کی اتھارٹی کے ساتھ ساتھ براہ راست وزیر اعظم پاکستان کا اعتماد حاصل ہو درکار ہے،او رساتھ یہ حکم کہ اسے 2005 کی قومی سپورٹس پالیسی پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں لہ ایک دفعہ پی او اے اور فٹبال فیڈریشن کا فرانزک آڈٹ شروع ہوجائے تو سبھی پاکستان چھوڑ کر بر طانیہ اور فرانس بھاگ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو کام حکومت پاکستان نے 2005کی سپورٹس پالیسی میں دو ٹرمز سے زائد پر پابندی لگا کر کیا تھا وہ کام گذشتہ چند سال سے بھارتی سُپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بھارت میں بھی کیا جا رہا ہے۔وہاں تو کوئی عالمی پابندیوں کی دھمکی نہیں دیتا یہاں لوگ کہتے ہیں ہم ہیں تو سپورٹس ہے ہم نہیں تو سپورٹس بھی نہیں ایسے لوگوں کو نہ صرف پاکستان کی سپورٹس سے باہر اُٹھا پھینکنے کی ضرورت ہے بلکہ انکے اپنے پاسپورٹس بھی ضبط کئے جانے چاہیں تاکہ یہ خود بھی پاکستان کے نام پر ملنے والی گرانٹس پر عیاشی کے لئے ملک ملک سیر نہ کرسکیں۔انہوں سے کہا کہ انٹرنیشل سپورٹس مافیاز ان مافیاز کو سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مختیف ملکوں ے مقامی سپورٹس ڈانز کے ساتھ ملکر اور انہیں سپورٹ کرنے میں ہی انکی بچت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کا تازہ ترین ثبوت امریکی حکومت کی جانب سے آئی او سی انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن (آئبا) پر پابندیوں کا مطالبہ ہے جس کے حوالے سے پوری دنیا کا میڈیا چیخ رہا ہے اور آئی او سی نے اس معاملہ کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔امریکی اداروں جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ آئبا صدر مافیا کے اہم رکن ہیں۔