فیصل صالح حیات نے سُپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے پی ایف ایف کے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا .( فیفا کا کھاتے ہیں ،اسی کی مانیں گے ).

لاہور( سپورٹس ورلڈ نیوز )ٍ فیصل صالح حیات نے سُپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے پی ایف ایف کے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کسی حکومتی ادارہ کے ما تحت نہیں اور نہ ہی حکومت سے فنڈز لیتی ہے . پی ایف ایف آزاد ادارہ کے طور پر کام کرتی ہے جسے عالمی فٹبال فیڈریشن فنڈنگ کرتی ہے، اس عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ میرے پاس 2020تک مینڈیٹ ہے تو ایسے میں بھلا کیوں الیکشن لڑ وں با الفاظ دیگر ( فیفا کا کھاتے ہیں ،اسی کی مانیں گے) ، فیصل صالح حیات آج یہاں لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال بڑی پیچیدہ اور نقصان دہ ہے، فیفا نے مارچ 2020 میں الیکشن کے لئے روڈ میپ اور مینڈیٹ دیا تھا،اس ضمن میں آئینی تقاضے پورے کرنے کے لئے کام بھی جاری ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے 12 دسمبر کو انتخابات کا حکم ہو چکا ہے، 12 دسمبر کو ہونے والے الیکشن میں امیدوار نہیں بن سکتا۔ فٹبال ہاؤس لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فٹبال کی ترقی کا سارا دارومدار فیفا اور اے ایف سی پر ہے، حکومت نے کبھی بھی پی ایف ایف کو فنڈز نہیں دیئے، فیفا کے رکن 211 ملکوں کی طرح پاکستان بھی عالمی باڈی کے قوانین کا پابند ہے، کوئی تھوڑی سی بھی روگردانی کرے تو کارروائی ہوتی ہے، سابق ورلڈ چیمپئن فرانس، نائجیریا، سعودی عرب اور عراق سمیت کئی ملک فیفا قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ماضی میں معطلی کا سامنا کر چکے ہیں، فیفا سے تعلق بگاڑنے سے نہ صرف فنڈز کی کمی ہوگی بلکہ قومی ٹیموں کی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت بھی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2015 میں ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر کیے جانے کا فیصلہ فیفا نے تسلیم نہیں کیا، اب ایک بار پھر اسی نوعیت کی پیچیدہ صورتحال پیدا ہو چکی، معزز سپریم کورٹ کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کیا- انہوں نے الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر شعیب شاہین نے پی ایف ایف کے آئین کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اپنا قانون بنانا شروع کردیا، انہوں نے کانگرس میں یکطرفہ طور پر ارکان ہی تبدیل کر دئیے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کہ ےہ الزام ہے کہ ہم نے فےفا سے اپنے حق میں فرمائشی خط لکھوایا بلکہ فیفا نے ہم سے صورتحال پوچھی تو ہم نے انہیں اسے صورتحال بتادی، پہلے ہی معطلی کے بعد بڑی مشکل سے بحالی کی راہ پر گامزن ھوئے تھے، ملکی سطح پر ماضی کی نسبت بہت زیادہ مقابلے کروائے، قومی ٹیموں نے انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کی اور کامیابیاں بھی حاصل کیں، آئندہ سال بھی ایک درجن کے قریب انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کرنا ہے، خستہ حال عمارت کی تعمیر کے لیے فیفا سے ساڑھے 3 کروڑ روپے کی رقم منظور کرائی، اس وقت بھی پی ایف ایف کے اکاؤنٹ میں 18کروڑ روپے اور فیفا کے 7 لاکھ ڈالر موجود ہیں، ایڈمنسٹریٹر کے تحت کام کرنے والے لوگوں نے ساڑھے 3 کروڑ تنخواہوں کی مد میں کھا لئے تھے، موجودہ فنڈز فٹبالرز کی امانت ہیں، اس میں کوئی بھی خیانت ہوئی تو بڑا نقصان ہوگا۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ میرے اوپر فیفا اور اے ایف سی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے جوہمیں2020ئتک مینڈیٹ دے چکے ہیں، میرا ذاتی فیصلہ ہے کہ الیکشن میں حصہ نہیں لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فٹبال کی بہتری کیلئے کوئی بھی ایسا حل نکلتا ہے جو فیفا کے لئے قابل قبول ہو تو میں کسی فریق کے ساتھ بھی بات کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن جن لوگوں نے 3 سال تک فٹ بال کو تباہ کیا وہ میز پر بیٹھ کر بات نہیں کرنا چاہیں گے۔ میں معزز سپریم کورٹ سے صرف یہی اپیل کروں گا کہ پاکستان فٹبال کو معطلی اور تاریک دور سے بچانے کے لئے صورتحال پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔