تازہ ترین
بنیادی صفحہ / انٹرویوز / سکواش کھلاڑی بہنیں عالمی سطح پرملک کانام روشن کرنےکی خواہاں،ام کلثون اورذہراعبداللہ پاکستان کوایک بارپھرسکواش میں شہرت اوربلندیوں پردیکھناچاہتی ہیں

سکواش کھلاڑی بہنیں عالمی سطح پرملک کانام روشن کرنےکی خواہاں،ام کلثون اورذہراعبداللہ پاکستان کوایک بارپھرسکواش میں شہرت اوربلندیوں پردیکھناچاہتی ہیں

انٹرویو(غنی الرحمن . سپورٹس ورلڈ نیوز پشاور)
ضلع صوابی کی مٹی ہر لحاظ سے بڑی زرخیز ہے اس مٹی نے تعلیم ،ہنر ،فن،سیاست اور حتیٰ کہ کھیلوں کے شعبے میں بھی کئی نامور سپوت پیداکئے ہیں جن میں مارشل آرٹس کے مایہ نازکھلاڑی انعام اللہ خان سمیت ایک لمبی لسٹ ہے جنہوں نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنااور ملک کا نام روشن کرکے کامیابیوں کے جھنڈے گھاڑ دیئے ہیں، تاہم موجودہ دور کے نئی نسل میں بھی کئی نوجوان کھلاڑی ہیں جو ملک کیلئے کھیل کر کارہائے نمایاں انجام دینے کی غرض سے اپنی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں ۔ان میں صوابی کی گائوں زیدہ سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت سکواش کھلاڑی بہنیں ام کلثوم اور ذہراعبداللہ بھی ہیں جوپاکستان کوایک مرتبہ پھردوبارہ ماضی کی طرح سکواش میں شہرت اور بلندیوں پردیکھنا چاہتی ہیں،انکی سب سے بڑی خواہش ہے عالمی سطح پر ہونیوالے مقابلوں میں حصہ لیں اور سبزہلالی پرچم کی نیک نامی کابا عث بنے اوراس مقصد کیلئے وہ دن رات ایک کرکے محنت کررہی ہے۔ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کے ساتھ اپنی ایک خصوصی انٹرویو میں سکواش کھلاڑی بہنوںام کلثوم اور ذہرہ نے بتایاکہ وہ تعلیم کےساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی بھر پور اندازمیں حصہ لے رہی ہیں ،دونوں بہنوں کوسکواش کھیل سے بچپن سے ہی لگا ئوہے اور اس کھیل کے لئے گھر والوں نے انکی ہمیشہ بہت حوصلہ افزائی کی ہے اور انکی بدولت ہی کئی قومی اور صوبائی سطح کے چمپئن شپ میں کھل کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈلز جیتے۔ام کلثوم نے کہاکہ پشاور میں سکواش کے سابق عالمی چمپئن قمرزمان کی نگرانی پی اے ایف سکواش کمپلیکس میں کوچ سے محض ایک ماہ کی ٹریننگ لینے کے بعدلاہور میں منعقدہ نیشنل چمپئن شپ کیلئے صوبائی ٹیم میں سلیٹ ہوئی اور صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایونٹ کے پہلے رائونڈ میں ہار گئی اور اسی دن سے میں نے عہد کیاکہ بس میں نے کھیلناہے اوراپنی کاکرکردگی کومزید بہتر کرناہے اور پشاور پہنچتے ہی کوچ محمد ریاض سے پی اے ایف سکواش کمپلیکس میں ٹریننگ شروع کردی ،

جس سے اللہ کے فضل سے پرفارمنس میں مزید نکھارآیا اوراسلام آباد میں منعقدہ اپنی دوسری نیشنل چمپئن شپ میں بہترین کھلاڑیوں کو شکست دیکر کوارٹر فائنل کھیلااور اس طرح جسکے بعد مسلسل کئی دیگر ایونٹس میں حصہ لیکر میڈلز جیتے ،جبکہ پشاور میں ہونیوالی انڈر23گیمز کے اگلے سال چمپئن ٹرافی اپنے نا م کی جبکہ امسال ضلع صوابی کی نمائندگی کرکے فائنل کھیلنے کا اعزازحاصل کیا،اس طرح کراچی میں ہونیوالی ریحانہ جمال نیشنل چمپئن شپ میں کوارٹرفائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ،اب تک ایونٹس میں کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو ہراچکی ہوں جس سے میرے حوصلے بڑھ گئے ہیں دو سال کے قلیل مدت میں قومی سکواش میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے اور مزید کامیابیاں بھی اپنے نام کرنا چاہتی ہوں۔ام کلثوم کاکہناتھاکہ وہ فرنٹیئر کالج برائے خواتین کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیںاور کالج کی جانب سے اتھلیٹکس مقابلوں میں باقاعدہ سے شرکت کرتی ہیں بلکہ گولڈ میڈلز بھی جیت کر رہی ہیں کیونکہ وہ اپنی فٹنس کیلئے اتھلیٹکس میں حصہ لیتی ہیں لیکن سکواش کی طرتح اتھلیٹیکس میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کیاہے ،بعض سہیلیاں اتھلیٹکس صرف اتھلیٹکس کھیلنے کا مشورے دے رہی ہیں تاہم وہ سکواش میں آگے بڑھنے کیلئے تھگ ودوکررہی ہیں۔ام کلثوم کا کہناہے کہ وہ اپنی فٹنس پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں وہ جاتی ہیں کہ کھلاڑی کیلئے فٹنس کتنی ضروری ہے انکی نظریں انٹر نیشنل سطح پر میڈلزکے حصول اور ورلڈ چمپئن کے ٹائٹل پر ہے یہی وجہ ہے کہ انہوںنے اپنی تمام تور توجہ سکواش پر دیکر روزانہ گھنٹوں پرپریکٹس کررہی ہیں۔

ام کلثوم کی بہن ذہراعبداللہ نے کہاکہ وہ بھی اپنی بہن کی طرح سکواش سے جنون کی حد تک شوق ہے اس وقت دونوں بہنوں کی پرفارمنس ایک ہی طرح جاری ہے ،انکاکہناہے کہ ملک میں اس کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں کو منظر عام پر لانے کیلئے زیادہ سے زیادہ غیرملکی ایونٹس کا انعقاد ہونا چاہئیے تاکہ ٹیلنٹ سامنے پر آسکے اورکر اپنی صلاحیتوں کو بھی منظر عام پر لانے کا بھرپور موقع ملے سکے انہوںنے کہاکہ ۔صوبے کی سطح پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ کھیل جنید خان نے جس کھیلوں کو فروغ دیااور کھلاڑیوں کی حوصلہ آفزائی کی ،شاید کسی صوبے میں اتنا کام ہوگیاہوں ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ایونٹ میں حصہ لیکر کورٹ میں اترتی ہیں تو وہ جیت کے جذبے سے ہی اترتی ہیںاور اللہ کے فضل سے کامیابی بھی نصیب ہوتی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ام کلثوم کا کہناتھاکہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سکواش پرحکمرانی کرے گا،کیونکہ ایک طرف پاکستان فیڈریشن بھر پور کام کررہی ہے تو دوسری جانب پاکستان سکواش فیڈریشن کے نائب صدر ، خیبر پختونخواسکواش ایسوسی ایشن کے صدر وسابق عالمی چمپئن قمرزمان صوبے میں سکواش کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات کرنے اور انکی تربیت میں مصروف ہیں جن کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ ام کلثوم کا کہناتھاکہ غیر ملکی مقابلوں میں حصہ لینامیری سب سے بڑی خواہش ہے تاہم اسکے لئے شارٹ کٹ راستہ یعنی سفارش کاسہاراکبھی نہیں لوںگی بلکہ صرف اور صرف اپنی صلاحیتوں کے بدولت سکواش کی دنیامیں اپنا اور پاکستان کا نام روشن کروںگی اورانشاء اللہ اپنے اس مقصد میں ایک دن ضرورکامیاب ہوجائوں گی۔