تازہ ترین
بنیادی صفحہ / مضامین / 2019ء فٹ بال فیملی کی نظریاتی جدوجہد کو مبارک ہو

2019ء فٹ بال فیملی کی نظریاتی جدوجہد کو مبارک ہو

تحریر آغا محمد اجمل
نظریہ وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پرآمادہ کر دے جبکہ جدوجہدعربی زبان سے ماخوص حاصلٌ جدٌ کے بعد حرف عطفٌ وٌ لگا کر دوسرا عربی ماخوذ حاصل مصدرٌ جہدٌ لگانے سے مرکب عطفیٌ جدوجہدٌ بن جاتا ہے۔ ایسی جدوجہد جو صرف اپنی ذات کے اردگرد گھوم رہی ہو اس کو طبقاتی جدوجہدکہا جاتا ہے۔یہی جدوجہد جب فلاح عام اور بھرپور نظام کو اس کے اصل رنگ و تجلیات کے ساتھ نافذ کرنے کے لئیے کی جائے تو اس کو نظریاتی جدوجہد کہا جائے گا۔نظریاتی جدوجہد کے حوالے سے سورہ بقرہ آیت نمبر 218 میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہٌ جو لوگ ایمان لائے او ر اللہ کے لیے وطن چھوڑ گئے اور (کفار) سے جنگ کرتے رہے وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا(اور)رحمت کرنے والا ہے۔جبکہ سورہ التوبہ آیت نمبر 88 میں ارشاد ربانی ہےٌ لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان پر ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مرادپانے والے ہیں۔ٌ
2015 سے جاری ہماری جدوجہد آج فیصل صالح حیات گروپ کو اس کے انجام سے دوچار کرنے کو ہے۔ 31 دسمبر سن 2018ء کا دن فیصل کی چودہ سالہ آمریت کا آخری دن ثابت ہو گیا ہے۔ فرد واحد ، ڈنگ ٹپاو مافیا، سانپ سیڑھی اور گوڈی کا سانپ ، لارے لپے اور لالی پاپ کے زریعے اپنے آمرانہ دور کو طوالت دینے والا 2019 ء کو دیکھنے کو ترس جائے گا۔ ہماری جدوجہد کا مقصد فیصل کی جگہ کسی دوسرے اچے شملے والے کو براجمان کرنا نہیں تھا بلکہ فٹ بال کو اس کے حقیقی وارثوں کے حوالے کرنا ہے۔ انشاء اللہ اب فٹ بال فٹ بالروں کے ہاتھ آنے والا ہے۔
ان تین سالوں کی جدوجہد میں ہمیں کئی انواع و اقسام کے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا ۔کئی دوست ہم سے انجان ہو کر اپنی ڈیڈھ اینٹ کی مسجد بنا کر اپنے انجان پن سے ہمارے اوسان کو خطا کرنے میں لگے رہے۔ جب مایوسی حد سے بڑہ کر ہمیں ناامیدی کے شکنجے میں جھکڑنے کے لیے اپنے پر تول رہی تھی اور ایک انجان ہمارے نظریے پر لبیک کہتا ہوا ہمارے قافلے میں شامل ہوکر ہمارے حوصلو ں کو نئی جہت سے ہمکنار کردیتا۔ ہماری اس جدوجہد میں نئے شامل ہونے والے انجان تو خلوص کے پیکر بن کر اپنے گزشتہ اعمال کا مداوا کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جو ہمارے دوستوں کو ہضم نہیں ہورہے تھے۔ جن کومیں نےٌ لیرو لیرٌ کا نام دیا تھا۔
2019ء کا سال ہمارے لیے ہماری جدوجہد کا حاصل بن کر طلوع ہو رہا ہے۔ تندی باد مخالف کا زور کبھی فیفا اور اے ایف سی کی شکل میں ہماری پرواز کو اونچا اڑانے کے لیے ہی ہے۔ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری منزل اب صرف دوبام پر ہی ہے۔ حق کی راہ بے شک کٹھن ہے اور باطل میں آسانی ہی آسانی ہے۔ یاد رکھیں ایسی محبت جس میں مشکلیں نہ ہوں وہ محبت مشکوک ہو جاتی ہے ۔پاکستانی فٹ بال اب اصلی حقداروں کو ملنے والا ہے۔ تشنہ لب تر ہونے کو ہے۔
ہماری جیت کسی فرد واحد کی جیت نہیں ہے یہ جیت ان دعاوں کی ہے جنہوں نے ہماری خاطر معاشی و سماجی سختیوں کو برادشت کیا۔ اصل جیت ہمارے اس نظریاتی جدوجہد کی ہے جس کی بنیاد یں فٹ بال فیملی اور فٹبالرز کی اجتماعی فلاح کے لیے ہے۔
2019ء کا پہلا دن فٹ بال فیملی کو مبارک ہو۔