تازہ ترین
بنیادی صفحہ / انٹرویوز / ملکی کھیلوں کےفروغ میں اسلامیہ کالج پشاورکا کلیدی رول رہاہے،یہاں کےطالب علم کھلاڑیوں نے متعدد کھیلوں میں قومی وبین الاقوامی سطح پرپاکستان کانام روشن کیا،علی ہوتی

ملکی کھیلوں کےفروغ میں اسلامیہ کالج پشاورکا کلیدی رول رہاہے،یہاں کےطالب علم کھلاڑیوں نے متعدد کھیلوں میں قومی وبین الاقوامی سطح پرپاکستان کانام روشن کیا،علی ہوتی

انٹر ویو :غنی الرحمن .سپورٹس ورلڈ نیوز
قیام پاکستان سے لیکر آج تک وطن عزیز کوکھیلوں کے میدانوں میں ایک سے ایک ہیر ادینے کی وجہ سے اسلامیہ کالج پشاوریونیورسٹی ملک بھرکے تعلیمی اداروں میں نمایاں وممتاز مقام حاصل کرچکاہے حسیب احسن سے لیکر محمدرضوان تک بے شمار کھلاڑی پاکستان کی قومی کرکٹ،ہاکی ،سکواش،اتھلٹکس،والی بال، ٹیبل ٹینس،بیڈمنٹن ٹیموں تک نہ صرف رسائی حاصل کی بلکہ اپنے عمدہ کھیل کی وجہ سے نمایاں وبلند مقام بھی حاصل کی۔اسلامیہ کالج پشاوریونیورسٹی کے کرکٹ کوچ اسٹنٹ ڈائریکٹر سپورٹس علی خان ہوتی نے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو بتایاکہ اسلامیہ کالج پشاورکے کرکٹرز قیام پاکستان سے قبل برصغیر پا ک وہند میں کھیلی جانیو الی رانجھی ٹرافی بھی کھیلتے چکے ہیں جن کی طویل لسٹ ہیں تاہم قیام پاکستان کے بعد قومی کرکٹ ٹیم میں اسلامیہ کالج کے پہلے کھلاڑی کااعزاز حسیب احسن کوحاصل ہواجوکئی سال قومی ٹیم کاحصہ بنے رہے اوربعدازاں چیف سلیکٹر کے طور پربھی کام کیاان کے علاوہ جوکھلاڑی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کاحصہ بنے ان میںمعاذاللہ خان( سابق ڈائریکٹرسپورٹس کے پی )میاں سیداحمدشاہ (ٹیسٹ ایمپائر) وجاہت اللہ واسطی،ذاکر خان،یاسرحمید،اخترسرفراز،شامل ہیںانہوںنے بتایاکہ میںبھی اسلامیہ کالج کی انٹروڈگری کرکٹ ٹیم کاکپتان بھی رہا اس وقت کی ٹیم سے محمدرضوان،جبران خان، عارف خان ،مہران ابراہم ،محمدعثمان،شاہین شاہ آفریدی قومی سنیئر وجونیئر زٹیم کا حصہ بنے اوران سب کی کارکردگی زبردست رہی انہوںنے بتایاکہ فرسٹ کلاس اورافغان کرکٹ ٹیم کے موجودہ کئی ایک انٹرنیشنل کرکٹرز بھی ہمارے اسلامیہ کالج کرکٹ ٹیم سے ابھر کرسامنے آئے ہیں جن میں موجودہ ورلڈ نمبرون باولرراشدخان کے علاوہ محسن خان،عار ف شاہ ایسے کھلاڑی رہے ہین جنہوںنے امان،آسٹریلیا،پاکستان سپرلیگ کھیلی اوربلند مقام حاصل کیا۔انہوںنے بتایاکہ اسلامیہ کالج کی کرکٹ کی ترقی کی بنیادی وجہ سے بہترین کوچنگ کے ساتھ ساتھ باقاعدگی کے ساتھ کیمپ لگائے جاتے ہیںہرمقابلے کے ساتھ کئی دنوں تک مسلسل کیمپ لگانے کی وجہ سے کھلاڑیوں کی صلاجیتوں میں بہت زیادہ بہتری آتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کوکوئی آگے بڑھنے سے روک نہیں پاتاہے اس کے علاوہ ہم نے اسلامیہ کرکٹ کلب بھی قائم کیاہے کیونکہ انٹرکالج،یونیورسٹی وبورڈ ایونٹ کے بعدکالج کرکٹ روک جاتی ہے اسلامیہ کرکٹ کلب بعدازاں پشاور،صوبہ وملکی سطح پرہم ازخود مقابلوں میں شرکت کرتے ہیںغرض جہاں جہاں کرکٹ کھیلی جاتی ہے ہماری کوش ہوتی ہے کہ شرکت کریں اوربچوں کوزیادہ سے زیادہ مواقعے فراہم کریںجس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیںانہوںنے بتایاکہ اسلامیہ کالج پشاورمیںایسی خوبیاں ہیں کہ جوجہاں پڑھتاہے یہ کھیلتاہے وہ کالج کی نیک نامی کی لیے حد سے زیادہ جان مارتاہے اورخون پسنہ تک بہادتاہے یہی وجہ ہے کہ اسلامیہ کالج دنیا بھر میںمنفرد مقام حاصل کرچکاہے ہم بھی اپنی طرف سے کھلاڑیوں کے لیے ہرمیدان میں اترتے ہیں ہرکسی کے لیے ہمارے دل فراغ ہیں اورسب کوساتھ لیکر چلتے ہیںدوسری بات یہ ہے کہ شہروملک کے کلبوں کے برعکس اسلامیہ کالج کے کھلاڑیوں پرزیادہ محنت ہوتی ہے لہذاوہ کسی مشکل کے بغیرپی سی بی واداروں کی ٹیموں تک باآسانی رسائی حاصل کرلیتے ہیںاورسلیکٹران کوآسانی کے ساتھ موقع دیتاہے چونکہ ہمارے کالج میںمیرٹ پرکوئی سمجوتہ نہیںہوتااورسپورٹس داخلہ بھی اتناآسان ہیں لہذاہمارے کھلاڑی اپنی مثال آپ ہوتے ہیںانہوںنے بتایاکہ جلد ہی کوالٹی کرکٹ اکیڈیمی بنانے لیے کاوشین کررہاہوں جوکہ تمام ترجدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوگی بچوں کوکیسے میڈیا سے بات کرنی ہے ان کی انگلش واردوبہتربنانے لیے،اچھا اخلاق،اٹھنے بیٹنے غرض ان کواچھاانسان بنانے لیے لیے بھی خصوصی کلاسز بھی شامل ہونگیںبہت جلدانشاء اللہ اپنے خواب کوعملی جامعہ پہنادوں گااس کے علاوہ وزیرستان میں آل پاکستان کرکٹ ٹورنامنٹ کراکے پوری دنیاکے سامنے صوبہ وملک کاروزشن وتابناک چہرہ واضع کرناچاہتاہوتاکہ دنیاکوپتہ چلے کہ وزیرستان سمیت پوراملک امن وآشتی کاپیکرہے اورہماراجوچہر ہ دنیاکوچند لوگ دکھارہے ہیں وہ غلط ہے کورکمانڈ رپشاورسے بات چیت جاری ہے چندسوالوں کے جوابات دیتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ جب تک پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال نہیں ہوتی تب تک قومی ٹیم کوجنوبی افریقہ،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ میں پے درپے ناکامیاں ملتی رہے گی۔اگرملک میں کرکٹ بحال ہوجاتی ہے توہمارے ملک کے ہرشہرکااپنااپنا موسمی مزاج ہے اوراس حساب ہے وکٹیںہیں جس سے کھلاڑیوں کی پ میچ پرکٹس ہوتی رہے گی جوباہرممالک میں ان کے کام ائے گی.