تازہ ترین
بنیادی صفحہ / اتھلیٹکس / فیصل آباد ٹارن ٹریک انکوائری رپورٹ آگئی،غیر معیاری ہونے کی تصدیق،کرپشن بھی ہوئی، ذمہ داران کے خلاف کیس اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش

فیصل آباد ٹارن ٹریک انکوائری رپورٹ آگئی،غیر معیاری ہونے کی تصدیق،کرپشن بھی ہوئی، ذمہ داران کے خلاف کیس اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش

فیصل آباد (صوفی ہارون سے ۔ سپورٹس ورلڈ نیوز) صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی کی ہدایت پر ، فیصل آباد میں دو سال قبل بچھائے جانے والے ٹارٹن ٹریک کی انکوائری رپورٹ نے نہ صرف اس ٹارٹن ٹریک کے غیر معیاری ہونے کی تصدیق کردی ہے ، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈ ندیم سرور نے اپنی انکوائری میں بتایاہے کہ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تیار کروایاجانے والا یہ ٹارٹن ٹریک کمیونیکیشن واینڈ ورکس ڈیپارٹمینٹ کی زیر نگرانی تیار کیا گیا تھا جس میں ڈسرکٹ گورنمنٹ اور اسکی زیر نگرانی ام کرنے والاسپورٹس آفس مذکورہ ادارے کا گاہک تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹارٹن ٹریک بچھانے والے ادارہ کمیونیکیشن واینڈ ورکس ڈیپارٹمینٹ فیصل آبادنے نہ صرف غیر معیاری ٹارٹن ٹریک بچھایا بلاکہ اسکا کا ٹینڈر بھی انتہائی مہنگے داموں حاصل کیا اور اس پر جیکٹ کے نام پر بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی گئی۔

ڈی جی پنجاب سپورٹس بورڈ ندیم سرور نے اس ضمن میں فیصل آباد کے ٹارٹن ٹریک سے لاہور میں اس ٹریک ے دو سال کے عرصہ کے بعد بچھائے جانے والے ٹریک کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے مذید انکشاف کیا ہے کہ لاہور کا ٹارٹن ٹریک جہاں کوالٹی اور معیار کے حساب سے فیصل آباد میں بچھائے جانے والے ٹارٹن ٹریک سے کہیں بہترین ہے وہاں اس ٹریک کو بچھانے والی کمپنی نے اسکی سات سال کی گارنٹی دیتے ہوئے اسے 8590روپے فی سکوائر فٹ کے ریٹ پر بچھایا ہے جبکہ دوسری جانب فیصل آباد میں بچھائے جانے والا غیر معیاری ٹارٹن ٹریک جو کہ اپنی تکمیل کے دو سال کے اندر ہی تباہ ہوگیا ہے ، کو بچھانے کا ٹھیکہ دو سال قبل 13425 روپے فی سکوئر فٹ میں دیا گیا تھا،یوں اس ٹریک کو بچھاتے ہوئے صرف قیمت کی ادائیگی میں دو سال قبل فی سکوئر فٹ 4835روپے فی اسکوائر فٹ زائد ادائیگی کی گئی ۔ اپنی رپورٹ میں ڈی جی پنجاب سپورٹس بورڈ نے اس ٹھیکہ کو لے کر دیگر کئی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رائے تیمور بھٹی کی جانب سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کے ایڈیٹر صوفی ہارون کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے اس معاملہ کی انکوائری کی ہدایت دیتے ہوئے صوبائی وزیرکی جانب سے ڈی جی پنجاب سپورٹس بورڈ کو اس معاملہ میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرنے اور انہیں کفر کردار تک پہنچانے کی جو ہدایت کی گئی تھی اس پر ڈی سپورٹس بورڈ پنجاب ندیم سرور نے اس غیر معیاری پراجیکٹ کے ذریعہ قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ضلعی انتطامیہ اسکے ماتحت کام کرنے والا اس وقت کا ڈسٹر کٹ سپورٹس افسر اورکمیونیکیشن واینڈ ورکس ڈیپارٹمینٹ فیصل آباد کو حصہ بقدر جُسہ قرار دیتے ہوئے ،اس پراجیکٹ میں ملوث ان تمام افسران کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں کیس دینے کی سفارش کی ہے۔ ڈی جی پنجاب سپورٹس کا اپنی رپورٹ میں صوبائی وزیر کو مذید بتایا کیا ہے کہ یہ پرا جیکٹ سالانہ صوبائی ڈویلپمینٹ کا حصہ نہیں تھا بلکہ یہ پراجیکٹ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے اکاونٹ نمبر چار سے لیا گیا تھا۔جسکے تحت کمیونیکیشن واینڈ ورکس ڈیپارٹمینٹ فیصل آبادکے ذمہ کنسٹرکشن کی ذمہ داری تھی جبکہ ضلعی حکومت اور اسکا سپورٹس ڈیپارٹمینٹ اسکے گاہک تھے جنہوں نے ہی اس پر اجیکٹ میں گر بڑ کی۔