تازہ ترین
بنیادی صفحہ / کبڈی / ڈی ایس اوپشاورکی جانب سےضلع ناظم اعلیٰ کبڈی ٹورنامنٹ بنات کلےنےجیت لیا

ڈی ایس اوپشاورکی جانب سےضلع ناظم اعلیٰ کبڈی ٹورنامنٹ بنات کلےنےجیت لیا

پشاور(سپورٹس ورلڈ نیوز.غنی الرحمن) روایتی کھیلوں میں کبڈی ایک ایسا کھیل ہے جسے نہ صرف شہری بلکہ دیہاتی علاقوں میں سب سے زیادہ کھیلا اور پسند کرنے اور کھیلاجانیوالاکھیل ہے ،پاکستان کے صوبہ پشاور،بنوں ،ہزارہ ڈویژن اور دیگر اضلاع کیساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کے پنجاب اضلاع کے دیہی علاقوں کا مقبول ترین کھیل ہے جو کشتی، کراٹے، اتھلیٹکس اور دوڑ کا مجموعہ ہے جس میں کھلاڑیوں کو میدان کے مخصوص میں مخالف کو چھو کر واپس اپنے ایریا میں آنا ہوتا ہے جبکہ مخالف ٹیم کو اسے لائن پار کرنے سے روکنا ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب کبڈی صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گائوں اور ضلعی سطح پر مقبول کھیل تھا، تاہم دیگر کھیلوں کی مقبولیت کے باعث رفتہ رفتہ کبڈی کی اہمیت ختم ہوگئی۔ آج بھی پاکستان کے کھلاڑی دنیاکے بہترین کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب ہماراروایتی کھیل ختم ہونیوالاہے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر پشاور جمشید خان بلوچ نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرائوں کوصحت مندانہ تفریح کی فراہمی کیلئے خواجہ سراء سپورٹس فیسٹول کا انعقادکیا،اسی طرح چھوٹے قد کے افراد کیلئے بھی مسلسل دوسری مرتبہ سپورٹس فیسٹول منعقد کرایا،جبکہ اسکے علاوہ کرکٹ ،والی بال،بیڈمنٹن ،ٹیبل ٹینس ،ہاکی،فٹ بال،ٹینس،تھروبال،چک بال،باسکٹ بال،جمناسٹک،باکسنگ،آرچری اوردیگر اولمپک کھیلوں کے ساتھ ساتھ کبڈی کو بھی زندہ رکھنے کیلئے پشاور کے مضافاتی علاقہ واحد گڑھی میں کبڈی ٹورنامنٹ کا انعقاد کرایاگیاجواس روایتی کھیل کے احیا کے لئے اہم قدم ہے۔
ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر پشاورکے زیر اہتمام خیبر پختونخواکبڈی ایسوسی ایشن کی نگرانی میں نواحی علاقہ واحد گڑھی کے خیبرے گرائونڈ پر منعقدہ چار روزہ کبڈی ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں بنات کلے کی ٹیم نے جیت لیا۔فاتح ٹیم نے مدمقابل ٹیم ٹیوب ویل کورونہ ادریمہ کو28کے مقابلے میں31پوائنٹس سے شکست دیکر چمپئن ٹرافی اپنے نام کرلی۔اس موقع پر مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنرپشاور ڈاکٹر عمران حامدشیخ مہمان خصوصی تھے جنہوںنے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں ودیگر انعامات تقسیم کئے،جبکہ فاتح ٹیم کے کھلاڑی ڈاکٹر عدیل کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی کا ایواردیدیاگیا۔اس موقع پرڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر جمشیدبلوچ،ڈسٹرکٹ سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین میناخان آفریدی،ڈسٹرکٹ ممبر وسیم اکرم،صوبائی کبڈ ی ایسوسی ایشن کے صدر ارباب نصیر احمد ،سیکرٹری سید سلطان شاہ ،ناظم ولی الرحمن ،ڈی ایس اوآفس کے حاجی عالمزیب اور ارشادخان سمیت دیگر شخصیات بھی موجودتھیں۔ کبڈی کے ان چار روزہ مقابلوں میں پشاور اور اسکے مضافاتی علاقوں کے8بہترین کلبوں نے حصہ لیا۔جن کے فائنل میچ میں بنات کلب اور ٹیوب ویل کورونہ ادریمہ کے مابین مقابلہ ہوا،فائنل کے دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعدادمیں تماشائی موجود تھے ،جو اس روایتی کھیل کبڈی سے بہت لطف اندوزہوئے ،میچ میں بنات کلے ٹیم کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے مدمقابل ٹیم کو28کے مقابلے میں31پوائنٹس سے شکست دیکر چمپئن ٹرافی اپنے نام کرلی۔فاتح ٹیم بنات کلے کلب کے کھلاڑی ڈاکٹر عدیل نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی رول اداکیا۔آخر میں مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنرپشاور ڈاکٹر عمران حامدشیخ نے کھلاڑیوں میں ٹرافیاں ودیگر انعامات تقسیم کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنرپشاور ڈاکٹر عمران حامدشیخ کا کہناتھاکہ ضلعی حکومت دیگر اولمپک کھیلوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور روایتی کھیلوں کے فروغ کیلئے بھی بھر پو ر اقدامات اٹھارہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ آج مضافاتی علاقہ واحدگڑھی میں کبڈی مقابلوں کا انعقاد کیاہے یقیناًاس قسم کے مقابلوں سے روایتی کھیلوں کو بھی فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عوامی حلقوں اور خصوصاًکھلاڑیوںنے ڈسٹرٹ سپورٹس آفیسر پشاور جمشید بلوچ کواس کامیا ب ٹورنامنٹ کے انعقادپر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس ایونٹ سے پشاور میں کبڈی کھیل کو ایک نئی زندگی ملی ہے کیونکہ کئی سالوں سے کبڈی کے مقابلے نہ ہونے کے برابرتھے جسکے باعث لوگوں کے ذہنوں سے کبڈی کا خیال ہی نکل گیاتھا،تاہم ڈی ایس اوپشاور نے روایتی کھیلوں کو دوبارہ زندہ رکھنے کیلئے جس قدر اقدامات شروع کردیئے ہیں اسکے دور رس نتائج نکلیںگے ۔اس موقع پرخیبر پختونخواکبڈی ایسوسی ایشن کے صدر ارباب نصیر احمد خان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ کبڈی صوبائی ایسوسی ایشن اپنی لیول پر اس کھیل کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں تاہم حکومتی سطح پر دیہاتی علاقوں میں کبڈی کے مقابلے منعقد کرانا خوش آئندہ اقدام ہے ۔انکاکہناتھاکہ اسی طرح کبڈی کے زیادہ سے زیادہ ٹورنامنٹس منعقد کروائے گئے تو یقیناًہمارے نوجوان کھلاڑی ایشیائی سطح پر پاکستان کے لئے میڈلز لاسکتے ہیں۔کبڈی کے بہترین کھلاڑی ڈاکٹر عدیل نے بتایاکہ پاکستان میں ہم جتنا زیادہ کھیلیں گے اور ہمارے لوگ ہمیں سپورٹ کریں گے اتنا ہی ہم آگے جاسکتے ہیںاوربین الاقوامی سطح پر اتنا ہی ہمارے اعتماد، تجربے اور مہارت میں اضافہ ہوگا۔ایک اور کھلاڑی نے کہا کہ صرف کرکٹ نہیں ہونی چاہیے، کبڈی بھی ہونی چاہیے۔ کبڈی بہت ہی ہمت والا کھیل ہے، میچ میں سب نے دیکھا کہ ہماری لڑکوں نے کتنا اچھا کھیل پیش کیا ہے،جس سے یقیناًنہ صرف پشاور بلکہ پورے خیبر پختونخوامیں کبڈی کو فروغ ملے گا۔کھلاڑی کے کھلاڑیوںنے صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے بھی مطالبہ کیاہے کہ وہ دیگر کھیلوں کی طرح کبڈی اور دیگر روایتی کھیلوں پر بھی بھر پوتوجہ دیں ،تاکہ روایتی کھیل بھی نہ صرف صوبے اور پاکستان بلکہ عالمی سطح پر روشناس کیاجاسکے ۔