تازہ ترین
بنیادی صفحہ / ہاکی / مخصوص اولمپیئن کی غلط بیانی کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان ہاکی کا منفی امیج جارہا یے.فنڈز کی دستیابی سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے.شہباز احمد سینئر سیکریٹری پی ایچ ایف

مخصوص اولمپیئن کی غلط بیانی کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان ہاکی کا منفی امیج جارہا یے.فنڈز کی دستیابی سے تمام مسائل حل ہوجائیں گے.شہباز احمد سینئر سیکریٹری پی ایچ ایف

لاہور(سپورٹس ورلڈ نیوز)پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل شہباز احمد سینئر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مخصوص اولمپیئن جو ماضی میں مختلف عہدوں پر براجمان ہوئے اب وہ مسلسل پاکستان ہاکی کو بدنام کررہے ہیں.اس عمل سے پاکستان ہاکی کا پوری دنیا میں مثبت امیج نہیں جارہا.یہ بات پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل شہباز احمد سینئر نے پنجاب ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کرنل ر آصف ناز کھوکھر کے ہمراہ پی ایچ ایف آفس میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہی.انہوں نے مزید کہا کہ فیڈریشن کوئی بھی ہو ان کو فنڈز جاری ہونے چاہیئے.فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث متعدد ایونٹس میں حصہ لینے کے حوالے سے کھلاڑیوں کو اکثر و بیشتر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا.ان حالات میں ہماری ٹیم کی پرفارمنس بہتر نہیں ہوسکتی.ہم نے پی ایچ ایف صدر بریگیڈیئر ر خالد سجاد کھوکھر کی سرپراہی میں سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ سے ملاقات بھی کی یے.انہوں نے کہا ہے کہ استعفی حل نہیں.جبکہ ملاقات کے دوران سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی یے.جس پر ہم انکے مشکور ہیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی کیلے فروغ کے حوالے سے ہم نے نیک نیتی کے ساتھ کام کیا.اسکے باوجود مخصوص گروپ نے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کیلئے شہباز احمد سینئر کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے زریعے کسی پر تنقید نہیں کی.سابق اولمپئین جھوٹ مت بولیں، بحیثیت اولمپیئن حق و سچ بولنا چائیے تاکہ انکی عزت قوم کے سامنے برقرار رہے.قابل افسوس امر یہ ہے کہ یہ وہی اولمپیئن پی ایچ ایف کے خلاف بول رہے جن کو یہی پاکستان ہاکی فیڈریشن دو سال نوازتی رہی.میری ہمیشہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ پاکستان ہاکی کی بین الاقوامی سطح پر عزت ہو.ارجنٹائن کے دورے پر 2 کروڑ روپے کا خرچہ آنا تھا.یہی وجہ تھی کہ فنڈز کی فراہمی نہ ہونے کے باعث ہم پرو ہاکی لیگ میں شرکت نہیں کرسکے.میری کوشش ہے کہ قومی ٹیم پر کوئی پابندی اور جرمانہ عائد نہ ہو.میں بحیثیت پاکستان ہاکی فیڈریشن سیکریٹری جنرل اور ایگزیگٹیو ممبر انٹر نیشنل آف ہاکی کے پلیٹ فارم سے آوازاٹھاؤنگا.ہماری کاوشوں سے11 بین الاقوامی کھلاڑی پاکستان آنے کو تیار ہیں.لیکن ہمارے اس اتنے وسائل نہیں ہیں.اگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کا خرچہ اسپانسر اٹھائے تو کھلاڑی پاکستان آسکیں گے.جب تک حکومت فنڈز نہیں دیتی کوئی بھی ادارہ ترقی نہیں کرسکتا.ملک بھر کے مختلف شہروں میں ہمیں چار ہاکی سینٹر بناکر دیے جائیں.تاکہ گراس روٹ سے بہترین ٹیلنٹ قومی ہاکی ٹیم کو مہیا ہوسکے.انشاء اللہ ہاکی لیگ میں انڈر 21 لڑکوں کو رکھا جائے گا.جبکہ فٹنس ہر کھلاڑی کیلئے لازمی ہے.اسکے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں.فیڈریشن کے پاس بھی فنڈز نہیں ہیں اگر حکومت کی جانب سے تعاون ملا انشاء اللہ بہت جلد پاکستان ہاکی اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرسکتا ہے.