تازہ ترین
بنیادی صفحہ / دیگر سپورٹس / جب پی او اے اور فیڈریشنز پاکستان قوانین کی پابند نہیں تو حکومت سے فنڈز کے لئے رونا دھونا کیوں؟ جس آئی اوسی کو مائی باپ مانتی ہیں اسی سے فنڈز لیں : خصوصی تحریر ۔ صوفی ہارون

جب پی او اے اور فیڈریشنز پاکستان قوانین کی پابند نہیں تو حکومت سے فنڈز کے لئے رونا دھونا کیوں؟ جس آئی اوسی کو مائی باپ مانتی ہیں اسی سے فنڈز لیں : خصوصی تحریر ۔ صوفی ہارون

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قائم کی جانے والی سپورٹس ٹسک فورس اورریفامز کمیٹی کو لیکر ہمیں شدید تحفظات ہیں کیونکہ ریفامز کمیٹی کے لئے کام کرنے والے پی سی بی کے سر براہ احسان مانی اور انکے دست راست علی رضا ایڈوکیٹ ہیں۔ احسان مانیکا معاملہ کچھ اسطرح سے ہے کہ کر کٹ کے معاملات میں الجھے ہونے کی وجہ سے انکے پاس وقت ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ وہ پاکستان میں کھیلوں کے بنیادی مسائل کے حوالے سے آگاہ ہی نہیں اور شائد آگاہی چاہتے بھی نہیں تھے یہی وجہ ہوئی کہ انہوں نے کھیلوں کے معاملات کو دیکھنے کاآسان حل علی رضا ایڈوکیٹ کی صورت میں ڈھونڈا اور انہیں ریفامز کمیٹی کوچلانے کی ذمہ داری سونپ دی ۔یہاں دلچسپ بات یہ تھی کہ موصوف احسان مانی یہ تک نہیں جانتے تھے کہ علی رضا ایڈوکیٹ ملک میں کھیلوں کی تباہی کی ذمہ دار پی او اے کے قانونی مشیر بھی ہیں۔ ایسے میں وہ کھیلوں کی بحالی کے لئے کیا خاک پروگرام ترتیب دیں گے ،چنانچہ وہی ہوا کہ علی رضا نے اب تک ریفامز کے معاملہ کو لٹکائے ہوئے ہیں۔ مسٹر علی رضا وہی ہستی ہیں جنہوں نے حال ہی میں پی او اے کے اجلاس میں پی او اے کے سر براہ جنرل (ر) عارف حسن کے سر براہ کے ساتھ بیٹھ کر اولمپک ایسوسی ایشن کے آئین سے صدر مملکت کو بطور پیٹرن انچیف اور چاروں گورنرز کو بطور صوبائی اولمپک پیٹرن فارغ کروایا ہے۔ مسٹر علی رضا نے ہی پی او اے کے آئین میں یہ بھی ترمیم کروائی ہے کہ پی او اے کی ایگزیکیٹو کمیٹی سے باہر کا کوئی رکن پی او اے کے کسی بھی عہدے کا الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ یوں اگر کر کٹ کی زبان میں دیکھا جائے تو مسڑعلی رضا ایڈوکیٹ حکومت کی جانب سے باولنگ کرانے کے ساتھ ساتھ پی او اے کی جانب سے اوپننگ بھی کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ایسے میں مسٹر احسان مانی کی ٹاسک فورس اور ریفارمز کمیٹی ملک کے کھیلوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔اور اس کو مذاق بنانے میں سب سے اہم کردار چئیر مین پی سی بی مسٹر احسان مانی کا ہے،جو وزیر اعظم عمران خان کے اعتماد کو اندھے کنویں میں پھینکے ہوئے ہیں۔
اب آتے ہیں واپس سپورٹس فیڈریشنز کے فنڈز اور سپیشل گرانٹس روکنے کے معاملہ کی جانب تو اس ضمن میں ہمار ماننا ہے کہ جب تک فیڈریشنز اس بات کو قبول نہ کریں کہ وہ حکومت پاکستان کی پالیسیز کی پابند اور اسکی جواب دہ ہیں حکومت وقت کو عوامی ٹیکس سے اکھٹے ہونے والے قومی خزانہ سے انہیں ایک دھیلا بھی ا نہیں نہیں دینا چاہئے، اور فنڈز مانگنے پر انہیں پی او اے اور آئی او سی کے دفتر کا راستہ دیکھانا چاہیے۔
باقی جہاں تک پی او اے اور سپورٹس فیڈریشنز کی اس بلیک میلنگ کا تعلق کہ ہے کہ اسطرح عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہوسکے گی تو اسکا جواب یہ ہے کہ پہلے آپ لوگ کس کس ایونٹ میں کون کون سا تیر مار کر آئے ہو؟ جو فنڈز نہ ملنے سے اسبار یا آئندہ لگنے سے رہ جائے گا ۔
حکومت کے لئے ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ وہ صرف ان فیڈریشنز کو فنڈز جاری کرے جو حکومت پاکستان کے فیصلوں اور پاکستانی قوانین کی پابندی کر رہی ہیں اور اس حوالے سے آئندہ بھی کرنے کا وعدہ کر یں۔ ٹیموں کو باہر جانے کے لئے سپیشل گرانٹس جاری کرنے کی بجائے ریاستی قوانین کا احترام کرنے والی فیڈریشنز کے کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے بین القوامی کوچز کا انتظام کر کے انہیں طویل المدت کیمپس فراہم کرے۔جہاں انہیں عالمی معیار کی تربیت فراہم کرے اور جب کھلاڑیوں کی پرفارمنس انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کی ہو جائے تو انہیں عالمی مقابلوں میں شر کت کی اجازت دے اور بھجوائے۔وگرنہ بیرون ملک ٹیمیں بھجوا کر قومی خزانہ اور زر مبادلہ کو ضائع کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر پی او اے آئی او سی کے قوانین کی پابند ہے ریاست پاکستان کی پابند نہیں تو وہ خود بھی آئی او سی سے فنڈز لے اور اسکی حمایتی تنظیمیں بھی۔ایسے میں فنڈز کے لئے رونا دھونا کیوں؟

اس صورتحال میں راقم سمیت کھیلوں اور پاکستان سے محبت کرنے والا ہر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ویثرن کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے سالہا سال سے کھیلوں اور کھلاڑیوں کی آڑ میں جاری لوٹ مار روکنے کے لئے سخت اور مشکل فیصلے لینے پر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا انکی وزارت کے اعلی حکام کا مشکور ہے کہ جنہوں نے پی او اے اور قومی فیڈریشنز پر سالہا سال سے قابض مافیا کی لوٹ مار کا راستہ ایسے انداز میں بند کیا ہیکہ (ہنگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چڑھے چوکھا) یعنی اب حکومت پی او اے اور فیڈریشنز سے عدلاتی معاملات میں ٹکراو میں جائے بغیر پی او اے اور فیڈریشنز پر قابض مافیاز کو دھیرے دھیرے میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر سکے گی۔ اسے کچھ کہنا اور کر نا بھی نہیں پڑے گا اور مفت برے بھیک نہ ملنے پر خود بخود فیڈریشنز چھوڑ کا بھاگ جائیں گے یا پھر ریاست کی بالا دستی قبول کرتے ہوئے ۔ملک میں کھیلوں کی بحالی کے لئے کھلاڑی وزیر اعظم عمران خان کی سر پرستی میں میرٹ کام کریں گے۔