تازہ ترین
بنیادی صفحہ / دیگر سپورٹس / نیشنل گیمز کوئٹہ. تاخیر ذمہ دار کون؟ کیا ایونٹ کے پی کے منتقل کرنے کا کہہ کر بلوچستان کوبلیک میل کیا جا رہا ہےِ ؟کیا عاقل شاہ .محمود خان اور عاطف خان کو لڑوانا چاہتے ہیں ؟ : خصوصی تجزیہ ۔صوفی ہارون

نیشنل گیمز کوئٹہ. تاخیر ذمہ دار کون؟ کیا ایونٹ کے پی کے منتقل کرنے کا کہہ کر بلوچستان کوبلیک میل کیا جا رہا ہےِ ؟کیا عاقل شاہ .محمود خان اور عاطف خان کو لڑوانا چاہتے ہیں ؟ : خصوصی تجزیہ ۔صوفی ہارون

پاکستان میں کھیلوں کی ٹھیکیدار پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن پر پندرہ سال سے قابض مافیا جسکی نا اہلی کی بدولت گذشتہ آٹھ سال سے قومی کھیلوں کے انعقاد تک ممکن نہیں ہوسکا اب بلوچستان میں چالیس سے پچاس کڑوڑ روپے کی لاگت سے لگ بھگ اسی فیصد انفراسٹرکچر کے تیار ہوجانے کے بعد قومی کھیلوں کو پشاور منتقل کرنے کی دھمکی دیکر بلوچستان حکومت کو بلیک میل کرنے جارہی ہے۔اس حوالے سے پی او اے کا اجلاس جو کہ آنے والے چند ایک دنوں میں لاہور میں منعقد ہوگا گیمز کی پشاور منتقلی کا کہہ کر بلوچستان حکومت کو نمائندوں کو دباو میں لایا جائیگا، اور پھر تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے بلوچستان حکومت سے سرکاری خرچ پر کو ئٹہ جا کر فائیو سٹار میں ٹہرانے کے مطالبہ سے لیکر ٹی اے ڈی اے لینے کے ساتھ ساتھ من پسند فیصلے کروائے جائیں گے اور اپنے کاروندوں کو بھی نوازوایا جائے گا ۔

ہمیشہ کی طرح اولمپک ایسوسی ایشن کے بڑوں کی یہ تمام کاروائیاں اپنی جگہ لیکن گذشتہ دنوں اپنے دورہ بلوچستان میں گیمز کی تیاریوں کی صورتحال کچھ اسطرح سے ہے کہ گراونڈز کی تیاری کا لگ بھگ اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور بیس فیصد کے قریب جو کام رکا پڑا ہے اسکی وجہ جہاں ایک طرف بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اپنے اندر ہی موجود دو دھڑوں کی باہمی چپقلش ہے ۔کیونکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کھیلوں کی تنظیموں کی اکثریت موجودہ صوبائی اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر افضل اعوان کو پسند نہیں کرتی اور ان سے نالاں ہے۔

ادھر افضل اعوان بھی فنڈز کے معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں تاکہ کہ صرف فنڈز کے استعمال کے حوالے سے خود مانی کر سکیں بلکہ من پسند لوگوں کو مستفید بھی کر سکیں ۔دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ذمہ داران کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں مشیر کھیل عبد الخالق ہزارہ اور سابق ڈی جی و سیکر ٹری کی جانب سے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی وجہ سے بھی وینیوز کی تیاری میں رکاوٹ آئی کیو نکہ ہر کوئی اپنا حصہ وصولنا چاہتا تھا۔ اب عبدالخالق ہزاہ نے سیکر ٹری اور ڈی جی سپورٹس اپنی مر ضی سے لگوا تو لئے ہیں لیکن ان دونوں صاحبان کو نہ تو کھیلوں سے متعلق کچھ پتہ ہے اور نہ ہی وینیوز کے حوالے سے تکنیکی آگاہی چنانچہ وہی ہو رہا ہے کہ میٹنگ پر میٹنگ۔گذشتہ تین ہفتوں میں مسٹر عبدالخالق ہزارہ کی ہدایت پر سیکرٹری سپورٹس اور ڈی جی سپورٹس بلوچستان بار بار صوبائی اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر افضل اعوان کے ساتھ دو سے تین میٹنگز کر چکے ہیں اور نتیجہ وہی صفر ہے اور شائد آگے بھی صفر ہی رہے ۔

جہاں تک بلوچستان میں زیر تعمیر وینیوز کا تعلق ہے تو تو گذشتہ دنوں راقم نے خود ان وینیوز کو وزٹ کیا تھا۔ جو حقائق سامنے آئیے تھے وہ کچھ اسطرح سے تھے۔ مین ایوب سٹیڈیم میں فٹبال گرانڈ کا کام اسی فیصد سے مکمل ہو چکا ہے۔ اسی سٹیڈیم میں ہونے والی ایکسٹینشن کا ڈھانچہ تعمیر ہوچکا ہے اور آگے کام رکا ہواہے۔ ٹارٹن ٹریک ابھی پڑنا ہے تاہم اس ضمن میں حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہ دو ماہ میں ٹارٹن ٹریک بچھوا دیں گے اور اگر نہ بھی بچھ سکا تو مسلۂ نہیں انکے پاس موسی سٹیڈیم میں ٹارٹن ٹریک موجود ہے جہاں اتھلیٹکس کے ایونٹ منعقد ہو سکتے ہیں۔ ہاکی کی آسٹر ٹرف بچھ چکی ہے۔ سوئمینگ پول پر ابھی ساٹھ فیصد کام ہی ہو سکا ہے ان ڈور ایونٹس کے لئے تیاریاں بھی اسی فیصد کے قریب مکمل ہیں۔پاکستان کو چنگ سینٹر میں ووڈن فرش سے لیکر سکواش کورٹس تک میں نوے فیصد کام مکمل ہے۔ جبکہ باقی ہالز جہاں ایونٹس ہونا ہیں بھی اسی سے نوے فیصد تیار ہیں۔

کو ئٹہ میں قومی کھیلوں کی تیاریوں کو جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مسلۂ یہ نہیں کہ تیاریاں کب مکمل ہونگیں مسلۂ صرف اتنا ہے کہ بلوچستان کی حکومت اور اسکے افسران سے لیکر یہاں کی صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن تک سبھی یہ چاہتے ہیں کہ بس پیسوں کے معاملات اسکے ہاتھ میں رہیں۔یہی بات اصل میں کو ئٹہ میں ہو نے والی قومی کھیلوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جسے بدقسمتی سے نہ تو صوبائی مشیر کھیل عبدالخالق ہزارتبدیل کر پائے ہیں ۔ ہاں البتہ وہ اقدار میں آنے کے بعد سے اپنی تمام انرجی اپنی وزارت کا سیکرٹری بدلوانے میں صرف کرتے نظر آئے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق ماضی کی طر ح موجودہ مشیر کھیل عبدالحاق ہزارہ کو بھی بلوچستان سپورٹس بورڈ میں موجود دیہاڑی دار مافیا نے اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے اور یہ اسی مافیا کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔

یہ تو تھی قومی کھیلوں کے حوالے سے بلوچستان کی صورتحال اب قارئین کے لئے ایک اور منظر پیش ہے اور وہ ہے کہ پی او اے کی جانب سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان حکومت کو گیمز کی منتقلی کے دباو میں لاکر اس سے من پسند فیصلے لئے جائیں اسی ضمن میں پی او اے مرکزی عہدے دار سید عاقل شاہ نے گذشتہ دنوں صوبائی وزیر کھیل کے پی کے عاطف خان کو بائی پا کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کے محمود خان سے ملاقات کی اور نیشنل گیمز پشاور میں کرانے کے حوالے سے بقول عاقل شاہ انہیں راضی بھی کر لیا ، پی اواے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اب چند ایک روز میں ہونے والے پی او اے کے اجلاس میں غور بھی کیا جائے گا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کے پی کے حکومت چاہے گی کہ وہ کسی دوسری چھوٹے صوبہ کے حق پر ڈاکہ ڈالے؟ کیا کے پی کے حکومت چاہے گی کہ وہ پیسے خرچ کے کر اپنی لئے بدنامی خریدے؟ بلکل اسی طرح جسطرح گذشتہ برس پشاور میں ہونے والے بین الصوبائی گیمز میں کے پی کے اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سید عاقل شاہ نے اتھلیٹکس کا ایونٹ رکوا کر اور سائیکلینگ کو سر سے سے ہی ایونٹ سے باہر کر کے اپنے نمبر تو بنا لئے تھے مگر کے پی کے سپورٹس بورڈ کو بدنام کر دیا تھا۔(اور جسطرح اسبار پنجاب اولمپکس ایسوسی ایشن پنجاب گیمز میں سائیکلینگ کے ایونٹ میں اپنے مخالف مگر حقیقی سائیکلینگ ایسوسی ایشن کے آفیشلز کو نظر انداز کرتے ہوئے اخلاقی طور پر کرپٹ افراد کو آفیشلز بنا کر ایہونٹ میں بلوانے کے علاوہ سائیکلینگ کے ایونٹ میں نان کوالیفائیڈ ٹیکنکل آفیشلز کو بلوا کر اس ایونٹ کریڈیبلٹی کو تباہ کرنے جارہے ہیں۔اور پنجاب گیمز کو بدنام کرنے کی کوشش میں ہیں)

شائد وزیر اعلی کے پی کے محمود خان بھول رہے ہیں کہ اے این پی سے تعلق رکھنے والے سید عاقل شاہ ایک سیاستدان ہیں جو کھیل میں بھی سیاست کھسیڑنے سے باز نہیں آتے۔ وزیر اعلی کے پی کے محمود خان کو چاہیے ہوگا کہ وہ اس حوالے سے اپنی اور اپنے صوبہ کی عزت بچائے ہی رکھیں تو اس میں انکا بھلا ہوگا۔ محمود خان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں عاطف خان کی غیر موجودگی اور انکی مرضی کے بغیر وہ براہ راست ان سے گیمز کا اعلان کراواکر انہیں اور عاطف خان کو لڑ وانا تو نہیں چاہتے؟ تاکہ صوبہ میں انکی حکومت کا ڈرامہ بن جائے؟ اور سبھی انکا اور انکی حکومت کا مذاق اُڑائیں؟۔اور پھر میڈیا لکھے کہ محمود خان اور عاطف خان میں ٹھن گئی؟

وزیراعلی کے پی کے محمود خان کو چاہیے کہ وہ عاقل شاہ کی چال کو سمجھیں جو ایک طرف تو انہیں اور عاطف خان کو لڑ وانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف کھیلوں میں سیاست کو لا کر کھیلوں کے میدان کو پی او اے کی گندی سیاست کو دھکیلنا چاہتے ہیں۔ایسے میں کے پی کے ہی نہیں سبھی حکومتوں کو اولمپکس ایسوسی ایشنز کو معاملات کو سمجھ کر چلنا ہوگا ۔
میرے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ پاکستان سپورٹس بورڈ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کا ناقد رہا ہوں ۔تاہم اسبار اسکی جانب سے فیڈریشنز کے فنڈز بند کرنے کی پالیسی پر میں اسکے ساتھ کھڑا ہوں اور وہ اسلئے کہ اگر یہ فیڈریشنز حکومت پاکستان کے قوانین کی پابند نہیں تو انہیں فنڈز کیوں دئیے جائیں؟ انہیں بیرون ملک عیاشیوں کے لئے سپیشل گرانٹس کیوں جاری کی جائیں؟ یہ لوگ اولمپک ایسوسی ایشن اور آئی او سی کے فیصلوں کے پابند ہیں تو فنڈز بھی انہی سے لیں۔ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کیوں؟
بلکہ ہماراتو کہنا یہ ہے کہ نیشل گیمز بھی پی او اے کی ذمہ داری ہے اسے اپنے فنڈز جنریٹ کر کے کرانی چاہیں ۔نہ کہ صوبائی حکومتوں کسے بھیک مانگ کر اور انہیں بلیک میل کر کے۔