تازہ ترین
بنیادی صفحہ / انٹرویوز / نیٹ بال،باسکٹ بال اور بیڈمنٹن میں صوبے کی نمائندگی کرچکی ،اللہ نے چاہا تو بین الاقوامی سطح پر سپورٹس کی دنیامیں پاکستان کی نمائندگی کروں گی ، زرافشاں

نیٹ بال،باسکٹ بال اور بیڈمنٹن میں صوبے کی نمائندگی کرچکی ،اللہ نے چاہا تو بین الاقوامی سطح پر سپورٹس کی دنیامیں پاکستان کی نمائندگی کروں گی ، زرافشاں

ملاقات (غنی الرحمن سے ) پاکستانی خواتین کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کیساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں،کوئی بھی قوم خواتین کی بھر پور شرکت کے بغیرخوشحالی اور ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکی اور پاکستانی خواتین کسی سے بھی کم نہیں ہیں،خیبر پختونخواکی خواتین کھلاڑیوں نے ہر دورمیں قومی اورانٹرنیشنل سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستانی کی نمائندگی کرتی ہوئی اپنا لوہا منوا رہی ہیں،ہماری خواتین کھلاڑیوں نے ،تائیکوانڈو،جوڈو،کرکٹ، اتھلیٹکس ،ہاکی،فٹ بال،بیس بال،والی بال ودیگر کھیلوں میں میڈل حاصل رکھے ہیں،اگر مزید مواقع اور بنیادی سہولیات فراہم کئے توکوئی شک نہیں صوبے اور پاکستان کیلئے آگے بڑھ کر بھی میڈلز جیت کر لائینگے ۔یہ باتیں مضافاتی علاقہ چمکنی سے تعلق رکھنے والی گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج کے بی ایس کی طالبہ ذرافشاں جان محمد نے کھیلوں کی مقبول ترین سپورٹس ویٹ سائٹ ،،سپورٹس ورلڈپی کے ڈاٹ کام کے پشاور کے بیوروچیف غنی الرحمن سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ ذرافشاں نے کہاکہ وہ بیڈمنٹن ،نیٹ بال اورباسکٹ بال کی بہترین کھلاڑی ہیں لیکن اسکے ساتھ ہی فٹ بال،ہاکی اور دیگر کھیلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ کھیل نظم و ضبط سکھاتا ہے اور جس سے ان میں یہ اعتماد ملا ہے کہ انکا کہنا تھا کہ کھلاڑی کی حیثیت سے پیدا ہونے والی خصوصیات خواتین کو تعلیم اور گھریلوں خانہ داری سمیت دیگر شعبوں میں کامیابی میں بھی مدد دیتی ہیں، جب عزم و ارادے اور کامیابی کی بات ہو تو پھر کھیلوں کو نظرانداز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے،کیونکہ کھیلوں میں حصہ لینے والی لڑکیوں کی صحت بہتر ہوتی ہے ان میں اعتماد بڑھتا ہے وہ تعلیمی میدان میں اعلی ٰکامیابیاں حاصل کرتی ہیں اور ان کی فلاح و بہبود بھی بہتر ہوتی ہے۔

ذرافشاں نے بتایاکہ انکی ایک ہاتھ کی دو انگلیاں بچپن میں گیس سے جھلس کر ضائع ہوئی ہے،لیکن یہ میں کھیلتی ہوں تو محسوس نہیں کرتی کہ میرے انگلیاں نہیں ہے کیونکہ یہ کمی کبھی بھی میرے کھیل میں رکاوٹ نہیں بنی ،لڑکیوں کی صحت پران جانے پہچانے فوائد کے ساتھ ساتھ کھیل انہیں موٹاپے، زیابیطس اور چھاتی کے کینسر سے بچا میں بھی مدد دیتے ہیں۔وہ کتی ہیں کہ وہ کھیل نے انہیں بہت حوصلہ دیاہے ،بلکہ اس سے نظم وظبط اور وقت کی پابندی ہونے سمیت والدین ،بہن بھائی اور اساتذہ کی عزت کرنے کا عادی ہوجاتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ لڑکیوں کیلئے کھیلوں سے یہ تمام فوائد حاصل کرنے کی خاطر اولمپکس میں جگہ بنانا ضروری نہیں ہے جبکہ بہت سی صرف متحرک رہنے اور تفریح کے طور پر کھیلوں سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔ گزشتہ سال قبل خیبر پختونخوامیں خواتین کھیلوں کا معیار اتنا اچھانہیں تھاتاہم اسکے بعد کئی خاتون اتھلیٹ شبانہ خٹک ،کرکٹرزینب خان،ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی انٹر نیشنل کرکٹر کانتاجلیل،ثناء میرکیساتھ ساتھ سکواش کی کھلاڑی ماریہ توپیکئی ،سعدیہ گل اور اس اس طرح کئی دیگر خواتین کھلاڑیوں نے مختلف کھیلوں میں بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کی ہے اور قومی لیول پر لاتعدادمیں خوتین نے تقریباًتمام کھیلوں میں صوبے کی نمائندگی کرکے کئی شان دار ریکارڈ اپنے نام لکھ چکی ہیں، لیکن بیرون ممالک ہونے والے انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کھلاڑیوں کو کم موقع دیاجاتاہے حالانکہ دیگر ممالک میں خواتین کھیلوں پر بھی کافی حد تک توجہ دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایشین گیمز،ساؤتھ ایشین گیمز اور کامن ویلتھ سمیت کئی دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں میڈلز ٹیبل پر ہم سے بہت آگے ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ذر افشاں کا کہنا تھا کہ گزشتہ ادوارکے مقابلے میں آج کل صوبائی حکومت نے صوبے میں مردوں کے ساتھ خواتین کھیلوں کے فروغ کیلئے قابل قدر خدمات انجام دے رہی ہے،جسکے باعث خواتین کھلاڑیوں میں آگے بڑھنے کاجذبہ پیداہوگیاہے ،تاہم اب بھی کچھ خامیاں ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کھلاڑیوں کیلئے ڈویلپمنٹ کے پروگرام نہیں، انکے کھیل کا عرصہ کم ہے، میٹرک میں شروع ہوکر ان کی سپورٹس کالج اور یونیورسٹی کیساتھ ختم ہوجاتی ہے اور اگر کوئی آگے بڑھنا بھی چاہے تو تسلسل کی کمی ہے،کیونکہ انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع نہیں مل پاتے،تو عالمی ایونٹس کس طرح جیتے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ سپورٹس ایسوسی ایشن اور فیڈریشنز نان ٹیکنیکل عہدیداروں کے رحم و کرم پر ہیں، ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں،جبکہ میڈیا بھی صرف کرکٹ کو اہمیت دیتا ہے دیگر کھیلوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ہونے کے سبب بھی خواتین کھلاڑی آگے نہیں بڑھ سکیں۔انہوں نے بتایاکہ ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام خواتین کالجز کی طالبات کے مابین سپورٹس فیسٹول باقاعدگی سے کھیلے جارہے ہیں،جسکے باعث طالبات کو کھیلنے کا بھر پور موقع مل رہاہے ،کھیلوں میں حصہ لینے والی لڑکیاں کامیاب رہتی ہیں،اگر انہیں مزید ٹریننگ دی گئی اور بنیادی وسائل فراہم کردی، توانشاء اللہ یہی خواتین کھلاڑی اپنی ذہانت اور مقابلے کے جوش کی بدولت دنیا بھر کے ناظرین کو حیران کر کے رکھ دیں گی، وہ ہمیں یہ بھی یاد دلائیں گی کہ خواتین کیلئے کھیلوں کی کیا اہمیت ہے۔ذر افشاں نے اس بات جو غلط قراردیاکہ کھیلوں میں حصہ لینے سے تعلیم متاثر ہوتی ہے حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ، بلکہ اس سے انسان ذہنی وجسمانی طور پر تندرست رہتاہے ،وہ جوگیواڑسکول میں پڑھ رہی تھی تو پڑھائی میں ذراکمزور تھی ،لیکن سکولوں کے مابین سپورٹس ایونٹس میں کھیلنے لگی تو آہستہ آہستہ ان میں بہتری آئی ،اور اس طرح جب گورنمنٹ سٹی گرلز کالج گلبہار میں داخلہ لیا تو کالج میں پرنسپل شاہین عمر اور سپورٹس لیکچررنجمہ ناز قاضی کی سرپرستی سے انکے کھیل میں مزیدنکھار آگیااور نیٹ بال،باسکٹ بال اور بیڈمنٹن سمیت دیگر کھیلوں میں قومی سطح پر خیبر پختونخواکی نمائدگی کرچکی ہیں اور اللہ کے فضل سے خواتین کھیلوں میں ایک منفرد مقام بنایاہے بلکہ پڑھائی میں اچھی کاصی بہتری آئی ہے ،صوبائی بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کھلاڑیوں کی بہتر رہنمائی کررہی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی نمائندگی کروں گی ۔


بیوروچیف سپورٹس ورلڈپی کے ڈاٹ کام کے پشاور غنی الرحمن