تازہ ترین
بنیادی صفحہ / انٹرویوز / خطے کے مقبول روایتی کھیل کبڈی کو کے پی کے میں ایک بار پھر بام عروج پر پہنچانے کا عزم کررکھا ہے ،سلطان سید علی شاہ

خطے کے مقبول روایتی کھیل کبڈی کو کے پی کے میں ایک بار پھر بام عروج پر پہنچانے کا عزم کررکھا ہے ،سلطان سید علی شاہ

انٹرویو:( اسد اللہ جان ) خیبر پختونخواکبڈی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری و سابق کھلاڑی سلطان سید علی شاہ کا مختصر تعارف
پشاور کے مضافاتی علاقہ وڈپگہ سے تعلق رکھنے والے کبڈی کے سابق باصلاحیت کھلاڑی اور انٹر نیشنل کوالیفائڈ کوچ سلطان سید علی شاہ جنہوں نے خیبرپختونخواکیلئے کئی قومی سطح کے مقابلوں میں میڈلز جیتے ہیں،وہ والی بال کے بھی ایک بہترین کھلاڑی رہاہے لیکن انکے گاؤں میں کبڈی زیادہ کھیلاجاتاتھایہی وجہ سے انہوں نے کبڈی کھیل کو اپناکراس میں آگے بڑھنے اور بین الاقوامی سطح پر نام پیداکرنے کا عزم کیااور اس طرح وہ پشاور سمیت صوبے بھر میں منعقدہ کبڈی کے مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لنا شروع کردیا،جنہیں مختلف ایونٹس میں1984-85کے دوران نیشنل چمپئن شپ کیلئے کیمپ میں طلب کرلیااور اس طرح انکے کھیل میں مزید نکھار پیداآگیااورپہلی مرتبہ قومی چمپئن شپ میں صوبے کی نمائندگی کرنے کا اعزازحاصل کیا۔کبڈی کے بڑے نام اور مایہ ناز کھلاڑیوں میں ارباب نصیر احمد خان ٹیم کے کپتان تھے اسکے علاوہ سلطا ن سید علی شاہ،درمنگی سے تعلق رکھنے والے عظیم خان، محمد حسین،بنوں کے مستجاب ،گل بشر مرحوم،جانان،زینت اللہ،ارمڑ کے رہائشی شاکر اللہ جیسے کھلاڑی شامل تھے،اس ایونٹ میں ہم نے چھٹی پوزیشن حاصل کی،اسکے علاوہ 2006تک کئی قومی سطح کے مقابلوں کا حصہ بنا۔1988کے دوران کوئٹہ میں منعقدہ نیشنل گیمز،سندھ ،لاہورمیں قومی گیمزمیں نمائندگی کا حاصل کیاہے ،1991-92میں انتر نیشنل چمپئن شپ کیلئے قومی ٹیم کے تربیت کیمپ مین طلب کیا،تاہم بدقسمتی سے ٹورپر نہ جاسکے ،سلطان سید علی شاہ المعروف سلطان بری نے ایشین سٹائل اور سرکل دونوں سٹائل کے مقابلوں میں کھیل چکے ہیں اور اس 2008میں ریٹائرڈمنٹ لینے کا اعلان کیا،جسکے بعد مجھے صوبائی کبڈی ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری چناگیااورکبڈی میں شاندار خدمات کے بناء پر پاکستان کبڈی فیڈریشن کے ایسوسی ایٹ سیکرٹری منتخب ہوا،تاہم ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایمپائرنگ،ریفری کورس کیاجسکے بعد لاتعدادقومی اورصوبائی سطح کے مقابلوں میں ریفری کے فرائض انجام دیئے اور ان مقابلوں میں بہترین ریفریز کے انجام دہی کے بعد پاکستان کبڈی فیڈریشن نے انہیں انٹر نیشنل ریفریز کورس کیلئے بھیجاگیا،اب تک لیول ون اور لیول ٹوکورس کرائے۔سلطان سید علی شاہ نے تھائی لینڈ اور ایران سمیت کئی دیگر انٹر نیشنل مقابلوں میں ریفری کے فرائض انجام دیئے ہیں اور انہی شاندار کاکردگی کے بدولت سلطان بری کومتفقہ طور پر خیبر پختونخواکبڈی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل چن لئے گئے ہیں اور جب سے انہیں صوبے میں کبڈی کوفروغ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں مقابلوں کا انعقاد کا سلسلہ شروع ہوگیاہے امید کی جاسکتی ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہر طرف کبڈی کا بول بالاہوگااور مقبول ترین کھیلوں میں شامل ہوگا۔
سلطان شاہ کبڈی کے علاوہ ایرانی کھیل زورخانے کا بھی ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں جنہوں نے اس کھیل میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایران،افٖغانستان ،تاجکستان اور بنگلہ دیش میں کھیلے جانیوالے انٹر نیشنل ٹورنامنٹس میں شرکت کرکے شاندارپرفارمنس کا مظاہری کرچکے ہیں۔

تیز رفتاری کے اس دورمیں کچھ عرصہ سے گلیمر اور پیسے والے نئے کھیل جگہ بنا رہے ہیں،تاہم ان عرصے میں پاکستان اور ہمسایہ ملک بھارت جیسے دوسرے ممالک میں کئی روایتی کھیل پیچھے رہ گئے ہیں اور شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے، ایک دور تھاکہ خیبر پختونخوااور صوبہ پنجاب میں کبڈی ایک مقبول اور سب سے زیادہ کھیلاجانیوالاکھیل کے طور پر جانااور پہچاناجاتاتھاکیونکہ دیہات کی مٹی میں رچا بسا کبڈی کا کھیل بہت دلچسپ ہوتا ہے اور اس میں جہاں مخالف کو ہرانے کیلئے جسمانی طاقت کی ضرورت ہے وہیں یہ دماغ کا کھیل بھی اہم ہے کہ کس طرح سامنے والے کو چکمہ دیا جائے اور اسے گھیرے میں پھنسایا جائے۔پاکستان کے دیہاتی علاقوں خصوصاً صوبہ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں یہ کھیل خوب مشہور رہا ہے ،برسوں پہلے بھی یہ کھیل جیسے کھیلا جاتا تھا آج بھی ویسا ہی ہے،کوئی پیڈ نہیں کوئی دستانے نہیں بس طاقت اور دماغ کا کھیل ہے۔لیکن حکومتی عدم توجہی کے باعث اب صورت حال اتنی اچھی نہیں ہے،نامناسب سہولیات کی عدم جوجودگی کے باوجوددیگر کھیلوں کی طرح کبڈی کے کھلاڑیوں نے بھی دنیامیں پاکستان کانام روشن کیاہے لیکن کبڈی سے وابستہ کھلاڑی حکام سے ملال ہے کہ انہیں سرکار کی جانب سے وہ توجہ نہیں دی جسکے وہ حقدار ہیں۔میڈیا نے بھی دھیرے دھیرے کرکٹ جیسے کھیلوں پر توجہ مرکوز کر لی اور کبڈی سمیت کئی دیگر روایتی کھیلوں کو جگہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گاؤں میں ان کا کیبل جاتا ہے اور نہ ہی گاؤں میں انکے ناظرین ہیں۔ ان کھیلوں کے منتظمین کی جانب سے بھی پوری کوشش نہیں ہوئی کہ کس طرح کھیلوں کو آگے لے جایا جائے، انہیں سپانسر نہیں ملے اور حکومتوں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔حالانکہ حکومت کے پاس پیسہ تو بہت ہے لیکن یہ پیسہ ان لوگوں تک نہیں پہنچا جو روایتی کھیلوں سے وابستہ ہیں، اگر ان روایتی کھیلوں کو بچائے رکھنا ہے تو سرکاری اور کارپوریٹ مدد کیساتھ ساتھ پرانے کھیلوں میں مارکیٹنگ کے جدید طریقے اپنانے ہوں گے۔فارمولا ون ریسنگ جیسے جدید کھیلوں سے ان روایتی کھیلوں کا کوئی مقابلہ نہیں ،اور دیہاتوں سے جڑے ان کھیلوں کو بس اپنے لئے تھوڑی سی جگہ چاہیے۔صوبے میں کبڈی کھیل کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ تلاش کرکے سامنے لانے کیلئے خیبر پختونخواکبڈی ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ نے بھی اپنی پوری اب وتاب کیساتھ کام شروع کردیاہے جس سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ انشاء اللہ جلد ہی یہ کھیل ایک بار پھر مقبول کھیلوں کے فہرست میں شامل ہوجائیگا۔صوبے میں کبڈی کی ترقی کیلئے کیااقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔اس حوالے سے صوبائی کبڈی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سلطان سید علی شاہ المعروف سلطان بری نے سپورٹس کے مقبول ویٹ سائٹ ،،سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام ،،کو ایک خصوصی انٹر ویودیتے ہوئے بتایاکہ انہوں نے صوبے کے تمام اضلاع میں زیادہ سے زیادہ مقابلے کرانے کیلئے ایک بہترین حکمت عملی تیار کی جارہی ہے اورہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاکہ گراس روٹ لیول پرجونیئر اور سینئرکٹیگریز میں بہترین کھلاڑیوں کوسامنے لایاجاسکے،جسکے لئے کبڈی فیڈریشن اور صوبائی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے،جن کیساتھ ملکرمختلف اضلاع میں سالانہ شیڈول کے تحت مقابلے کرائے جارہے ہیں،امید ہے کہ ان کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کبڈی انکی زندگی ہے اور جب تک زندگی رہے گی اسکی ترقی کیلئے جدوجہد کروں گا،ہماری خواہش ہے خیبر پختونخواسمیت ملک بھر میں کبڈی ایک مرتبہ پھر زندہ ہوں۔انکاکہناتھاکہ تیار کردہ شیڈول کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقہ وڈپگہ میں سپورٹس گالامیں صوبائی لیول پر کبڈی مقابلے منعقد کرائے ،ڈی جی جنیدخان نے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا،اسکے علاوہ ضلعی انتطامیہ وڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کے تعاون سے واحد گڑھی میں ایک بہترین ٹورنامنٹ کاانعقاد کیا،اسکے بعدضلع چارسدہ میں ضلعی سطح پر انٹر کلب مقابلے کرانے کے کے علاوہ ضلع نوشہرہ میں مقامی انتظامیہ کی طرف سے ایونٹ منعقد کیااور ساتھ ہی ضلع صوابی جسے کبڈی کا گڑھ بھی کہاجاتاہے میں گاؤں مینئی میں ایک تاریخی مقابلے کروائے گئے،جہاں پر ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعدادمیں شائقین نے میچزسے لطف اندوزہوئے ۔انہوں نے کہاکہ ضلع چارسدہ میں جلدہی صوبائی سطح پر ٹورنامنٹ منعقد کرانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ،جس میں صوبے بھر سے کبڈی ٹیمیں شریک ہوں گی،سلطان شاہ نے بتایاکہ اسکے علاوہ ضلع جنوبی اضلاع بنوں،ڈی آئی خان ،کوہاٹ،ٹانگ اور لکی مروت کیساتھ ساتھ کبڈی کے ٹورنامنٹس کرانے کا پروگرام ہے،سلطان سید علی شاہ نے کہاکہ پاکستان کبڈی فیڈریشن کے بینر تلے اپریل کو اسلام آباد میں قومی چمپئن شپ کھیلی جائے گی،جسکے لئے باصلاحیت کھلاڑیوں کا چناؤکیاجائیگا۔صوبائی سطح پر ہم نے سابق باصلاحیت کھلاڑیو ں اور کوچزپر مشتمل سلیکشن کمیٹی تشکیل دی ہیں،سلیکشن کمیٹی کے اراکین صوبے کے مختلف اضلاع میں ہونیوالے مقابلوں میں پرفارمنس دکھانے والے کھلاڑیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورنیشنل چمپئن شپ کیلئے پشاور میں لگائے جانیوالے کیمپ میں طلب کیاجائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انکاکہناتھاکہ پشاور میں نیشنل چمپئن شپ کرانے کا ارزادہ تو رکھتے ہیں لیکن فنڈزکی کمی اور بنادی وسائل کی عدم فراہمی کے باعث مشکلات کا سامناہے ،انہوں نے صوبائی حکومت اورصوبائی سپورٹس بورڈ کے ہر دل عزیزڈی جی جنیدخان سے پشاور میں قومی چمپئن شپ کے انعقادمیں بھر پور سرپرستی کامطالبہ کیاہے۔ایک سوال کے جواب میں سلطان سید علی شاہ نے کہاکہ انہوں نے پاکستان فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل رانامحمدسرورکی وساطت سے مختلف ڈیپارٹمنٹس کیساتھ رابطے کئے ہیں تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو ملازمتیں دی جائینگی،جس سے اس کبڈی کو فروغ ملے گا،ہماری کوشش رہے گی کہ خیبر پختونخوامیں مردوں کے جونیئراور سینیئر سمیت مختلف کٹیگری کے کھلاڑیوں کیساتھ ساتھ خواتین کبڈی کو بھی فروغ دیکر اس کھیل کو دوبارہ زندہ کیاجاسکے ۔