تازہ ترین
بنیادی صفحہ / فٹ بال / ایشین فٹبال کنفڈریشن کی جانب سے فیفا قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فیصل فٹبال فیڈریشن کو خلاف قوانین ادائیگیوں اور خفیہ اکاونٹ بنانے میں مد د دینے کے ہوش ربا شواہد سامنے آگئے

ایشین فٹبال کنفڈریشن کی جانب سے فیفا قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فیصل فٹبال فیڈریشن کو خلاف قوانین ادائیگیوں اور خفیہ اکاونٹ بنانے میں مد د دینے کے ہوش ربا شواہد سامنے آگئے

اسلام آباد ۔ 26 مئی 2019 (سپورٹس ورلڈ نیوز) ایشین فٹبال کنفڈریشن کی جانب سے جولائی 2015سے لیکر مارچ 2018 کے عر صہ کے دوران فیفا قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فیصل فٹبال فیڈریشن کو خلاف قوانین ادائیگیوں اور مبینہ طور پر خفیہ اکاونٹ بنانے میں مد د دینے کے ہوش ربا شواہد سامنے آگئے ہیں ۔ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو حاصل ہونے والی دستا ویزات کے بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہہ بات عیاں ہوئی ہے کہ ایشین اے ایف سی حکام نے فیفا کے قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف پی ایف ایف کے اکاو نٹس سے ہٹ کر پی ایف ایف کو خفیہ اور غیر قانونی اکاونٹ کھولنے میں اسکی معاونت کی بلکہ 2015 سے لیکر 2018 تک اے ایف سی کی جانب سے اس خفیہ اکاونٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں اور پاکستان میں فٹبال کے کھیل کے لئے سالانہ اڑھائی لاکھ ڈالر کی گرانٹ بھجوائی جاتی رہی جس سے فیصل صالح حیات کے وکلاء کو فیصل صالح حیات ورسز رانا اشرف و ارشد لودھی کے کیس میں ادا ئیگی بھی کی جاتی رہی ۔ ڈاکو مینٹس کا بغور مطالعہ کرنے سے مذید پتہ چلتا ہے کہ اے ایف سی کی جانب سے پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لئے دی جانے والی اس اڑھائی لاکھ ڈالرز کی رقم سے پی ایف ایف کے گھر بیٹھے ملازمین جن میں سیکر ٹری جنرل کرنل احمد یار لودھی سمیت دیگر ملازمین شامل تھے بھاری تنخواہیں وصول کرتے رہے اسی طرح اس تمام عرصہ کے دوران فٹبال کے کھیل کے لئے آنے والی اس گرانٹ جو کہ فٹبال کے کھیل اور کھلاڑیوں کے لئے تھی .سےفیصل فٹبال فیڈریشن نے ایک ایونٹ تک نہ کرایا ۔
سپورٹس ورلڈ کو حاصل ہونے والے ڈاکو مینٹس اور شواہد کے مطابق 23 جولائی کو لاہور ہاائیکورٹ کی جانب سے پی ایف ایف پر عدالت کی جانب سے ایڈ منسٹریٹر مقرر کئے جانے کے فیصلہ کے بعد سابق سیکر ٹری ہی ایف ایف کرنل(ر) احمد یار لودھی کی جانب سے فیفا حکام کو عدالتی احکامات کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے 7 اکتوبر کو ایک خط لکھا جس میں اسکے ایکٹنگ سیکر ٹری جنرل مارکوس کیٹنر کوسے درخواست کی گئی کہ وہ بعذریہ اے ایف سی پاکستان فٹبال فیڈریشن کو فیفا کے فنانشل اسسٹنٹ پروگرام کے تحت396000ڈالر کی گرانٹ کے تیسرے اور چوتھے کواٹر کو ریلیز کریں ۔ اس خط میں کر نل لودھی نے ایکٹینگ سیکر ٹری جنرل فیفا کو مذید تحریر کیا کہ پی ایف ایف اور اے ایف سی کے ان فنڈز کی پاکستان ٹرانسفر کے حوالے سے میکنزم طے کر لیا ہے ۔ جسکے جواب میں ایکٹینگ سیکر ٹری فیفا کی جانب سیکر ٹری پی ایف ایف کو 27اکتوبر2015کو اس خط کے جواب میں لکھے گئے جوابی خط میں ایسا کرنے سے معذرت کرلی گئی اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ فیفا کے قوانین کے تحت ان ڈائریکٹ پیمنٹ یا تھرڈ پارٹی کے توسط سے ادائیگی نہیں کی جا سکتی ۔ اور ساتھ ہی انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ جلد پی ایف ایف اپنے اکونٹس واپس حاصل کر لے گی جسکے بعد بلا تخیر اسکی فنڈنگ بھی بحال کر دی جائے گی ۔
سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو حاصل ہونے والے شواہد میں شامل سیکر ٹری پی ایف ایف کی جانب سے 23 فروری2016 کو سیکر ٹری جنرل اے ایف سی ونڈسر جان کو لکھا جانے ولا ایک خظ بھی شامل ہے جس کا عنوان ریوائزڈ بلز دیا گیا ہے ۔ اس خط میں کرنل احمد یار لودھی سیکر ٹری اے ایف سی سے ہہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس خط میں دئیے گئے ناموں کے مطابق ان کمپینوں اور افراد اور وکیلوں کے اکاونٹ میں براہ راست ادائیگیاں کر دیں ۔
مذکورہ ڈاکو مینٹری شواہد کے علاوہ سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کو ایک آڈیو گفتگو بھی موصول ہوئی ہے جس میں پی ایف ایف کےسابق سیکر ٹری جنرل کرنل احمد یار لودھی مبینہ طور پراے ایف سی کے ایک اعلی افسر سے ہہ درخواست کرتے ہوئے پائے جا رہے ہیں کہ وہ انہیں خفیہ اکاونٹ کھولنے کے اے ایف سی سے ایک لیٹر بھجوائیں تاکہ وہ عدالت کی جانب سے ایڈمسٹریٹر لگنے اورپی ایف ایف کے اکاونٹس ہاتھ سے نکل جانے کے بعد وہ نیا سیکر ٹ اکاونٹ کھول کر فنڈز منگوا سکیں ۔ جسپر وہ اے ایف سی آفیسر انہیں کہتا ہے کہ آپ ایک ای میل بھجوا دیں ہم آپکو لیٹڑ جاری کر دیتے ہیں.کوئی مسلئہ نہیں.
ادھر دوسری جانب ان خفیہ اکونٹس کے حوالے سے سپورٹس ورلڈ پی کے ڈاٹ کام کی جانب سے موجودہ پی ایف ایف کے ذمہ دار ذرائع سے رابطہ کر کے ان خفیہ اکونٹس کے حوالے سے پوچھا گیا تو ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ایف ایف کو خفیہ اکاونٹس کا قطعی کوئی علم نہیں. بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سابق پی ایف ایف انتظامیہ نے انہیں ریگولر اکاونٹس کی تفصیلات تک فراہم نہیں کی ہیں.ذرائع کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد وہ اس معاملہ کی نیب اور ایف آئی اے سے تحقیقات کا مطالبہ کریں گے

ان تمام شواہد کر دیکھتے ہوئے کئی سوالات جنم لےتے ہیں ۔

1 ۔ اس معاملہ کو لیکرسب سے پہلے قابل احتساب ادارہ اے ایف سی ہے جس نے نے نہ صرف خفیہ اکاونٹ کھولنے میں پی ایف ایف کی معاونت کی بلکہ ان میں فنڈز بھی ٹرانسفر کئے ۔ اے ایف سی حکام کے اس عمل نے پورے کے پورے سسٹم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اے ایف سی کے ان غیر قانونی حرکت پر فیفا کیا ایکشن لیتا ہے ۔

2 ۔ اے ایف سی نے نہ صرف پی ایف ایف کو خفیہ ٹرنزیکشن کیں بلکہ کمپینوں، افراد اوروکیلوں کے اکاونٹس میں بھی براہ راست ادائیگیاں کیں ۔ کیا یہ فیفا اور اے اے ایف سی کے قوانین کی صریحا خلاف ورزی نہیں اگر ہے تو اسکا مجرم کون ہے اور کیا فیفا اس حوالے سے تحقیقات کرکے اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرے گا ۔ یہاں ایک اور دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اے ایف سی نے فیصل صالح حیات اینڈ کمپنی کے کہنے پر پاکستان کی عدالت میں چلمے والے معاملہ میں انکے وکلاء کو ادائیگیاں کر کے براہ راست تھرڈ پارٹی کے طور پر مداخلت نہیں کی؟ اور کیا یہ فیفا اور خود اے ایف سی قوانین کی صریحا خلاف ورزی نہیں؟

3 ۔ کیا پاکستان کی عدالتوں کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر لگائے جانے کے بعد فیصل فٹبال فیڈریشن کی جانب سے خفیہ اکاونٹ بنا کر غیر ملکی اداروں سے فنڈنگ لینا بذات خود ایک جرم نہیں؟

4 ۔ کیا اے یف سی اور فیصل فٹبال فیڈریشن اس عرصہ کے دوران پاکستان کے فٹبالرز کے لئے آنے والے لاکھوں ڈالرز کا حساب دیں گےَ ؟

5 ۔ کیا خفیہ اکاونٹ رکھنا پاکستان کے قانون کے تحت جرم نہیں ;238; اگر ہیں تو کیا کرنل(ر) احمد یار لودھی اور فیصل صالح حیات اینڈ کمپنی کے خلاف بھی نیب اور ایف آئی اے تحقیقات کرے گی;238; اور ان خفیہ اکونٹ میں آنے والے پیسے کا حساب لیا جائے گا؟