تازہ ترین
بنیادی صفحہ / فٹ بال / نیشنل چیلنج کپ اور انڈر16فٹبال چمپئن شپ آئندہ ماہ کھیلی جائےگی ، اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے پر نوٹس لینے کا فیصلہ ‘نئے الیکشن بھی آئندہ ماہ متوقع

نیشنل چیلنج کپ اور انڈر16فٹبال چمپئن شپ آئندہ ماہ کھیلی جائےگی ، اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانے پر نوٹس لینے کا فیصلہ ‘نئے الیکشن بھی آئندہ ماہ متوقع

کراچی ۔ 11جون 2019 (اسپورٹس ورلڈ نیوز)پاکستان فٹبال فیڈریشن نے نیشنل انٹر سٹی چمپئن شپ کے بعد ماہ جولائی میں نیشنل چیلنج کپ اور نیشنل انڈر 16چمپئن شپ کے انعقاد کا عندیہ دیا ہے ۔ آئندہ ہفتہ اس کا باقاعدہ اعلان بھی متوقع ہے ۔ گذشتہ 6ماہ کے دوران موجودہ فیڈریشن نے ڈومیسٹک فٹبال کے فروغ کیلئے جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ یقینی طور پر پاکستان کے ان فٹبالرز کیلئے خوشی کی وہ نوید ہے جس کیلئے وہ ماضی میں ترس گئے تھے ۔ کیونکہ فیڈریشن صرف اور صرف پی پی ایل اور ’بی‘ ڈویثرن لیگ تک محدود ہوگئی تھی اورجملہ پاکستان کی کلب فٹبال زبوں حالی کا شکار تھی ۔ صدر فیڈریشن سید اشفاق حسین شاہ نے نیشنل انٹر سٹی فٹبال چمپئن شپ کے ذریعے کلب فٹبال میں ایک نئی روح پھونک دی جسکاکامیاب انعقاد ساوَتھ پنجاب کے دو شہروں بہالپور اور ملتان مں کیا گیا ۔ محکمہ جاتی ٹیموں کوبھی اس موقع پر تنہا نہیں کیا گیا اور نیشنل چیلنج کپ کے انعقاد کی بھی نوید سنادی گئی ہے اور ساتھ ہی گراس روٹ لیول سے بھی فٹبال کے فروغ کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔ ماہ جولائی میں ان دونوں ایونٹ کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا ۔ دوران رمضان ورلڈ کپ کوالیفائر کیلئے کیمپ کا انعقاد میں بھی محکمہ جاتی کھلاڑیوں اور نیشنل انٹر سٹی فٹبال چمپئن شپ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو بھی شرکت کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا ۔ لیکن فیفا کی جانب سے بروقت فیصلہ نہ ہونے کے باعث سابق فیڈریشن کو اپنی ٹیم تسلیم کرانے کا موقع مل گیا ۔ سابق فیڈریشن نے پاکستان کی قومی ٹیم کے انتخاب کیلئے پاکستان کے بجائے بحرین میں لگائے جانے والے کیمپ میں کلب کا کوئی کھلاڑی شامل نہ کیا ۔ کراچی کے 2محکماجاتی کھلاڑیوں کو منتخب توکیا گیا لیکن انہیں پہلے میچ میں موقع فراہم نہیں کیا گیا اور پاکستان نثزاد کھلاڑیوں کو ترجیح دی گئی جس کا فائدہ یقینی طور پر انہیں اپنے فارن کلبوں میں اپنے کنٹریکٹ کو استحکام بخشنے اورمالی طورپر زیادہ مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا جس کاپاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ۔ اگر ہم پاکستان کے کھلاڑیوں کو موقع فراہم کرتے تو انہیں حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں پاکستان کے نوجوان فٹبالرز کے کام آتا ۔ اس بات کا اعتراف کراچی میں سابق فیڈریشن کی حمایت کرنے والوں نے برملا کیا اور واٹس اپ پر وائس میسیجز کے زریعہ کراچی کے کھلاڑیوں اور کوچز کو نظر انداز کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا کہ 8کوچز کی ٹیم میں ایک کوچ بھی کراچی کا نہ تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فیڈریشن پر برا وقت آتا ہے تو کراچی کواوّل دستہ کا کردار ادا کرنے کیلئے کہا جاتا ہے لیکن جب مراعات کا وقت آتا ہے تو نظرکرم کہیں اور پڑ جاتی ہے ۔ عیسیٰ خان کو کوچ کے بجائے میڈیا آفیسر کے روپ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ۔ موجودہ فیڈریشن سے تمام تر اختلاف کے باوجود انہوں نے کراچی کے ان کھلاڑیوں کو چانس دیا جن کے بڑے ان سے شدید اختلاف رکھتے تھے ۔ لیکن منتخب فیڈریشن نے اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کراچی کے کھلاڑیوں کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ مستحق کھلاڑیوں کو شامل کیمپ بھی کیا ۔