تازہ ترین
بنیادی صفحہ / کرکٹ / پاکستان کر کٹ بورڈ میں سی او او کے عہدے پر تعینات لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے سبحان احمد ، ڈائریکٹر انٹر نیشنل افئیرز ذ اکر خآن اور خود احسان مانی پی سی بی کے خزانہ پر بوجھ بن گئے .

پاکستان کر کٹ بورڈ میں سی او او کے عہدے پر تعینات لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے سبحان احمد ، ڈائریکٹر انٹر نیشنل افئیرز ذ اکر خآن اور خود احسان مانی پی سی بی کے خزانہ پر بوجھ بن گئے .

اسلام آباد – 11 جولائی 2019 (سپورٹس ورلڈ نیوز) پاکستان کر کٹ بورڈ میں چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے پر تعینات لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے سبحان احمد ، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کر کٹ ذ اکر خآن اور خود احسان مانی پی سی بی کے خزانہ پر بوجھ بن گئے . .تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے پی سی بی میں چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے پر تعینات سبحان احمد جو پی سی بی کے سیاہ و سفید کے مالک چلے آرہے تھے .ایم ڈی وسیم خان کے آنے اور چئیر مین پی سی بی کی جانب سے تمام اختیارات ایم ڈی وسیم خان کو سونپے جانے کے بعد عملی طور پر بیکار ہو کر رہ گئے ہیں ،اسی طرح ڈائریکٹر نٹرنیشل کر کٹ کے عہدے پر تعینات ذاکر خان بھی وسیم خان کی پھرتیوں کی زد میں ہیں جو انٹرنیشنل کر کٹ کے معاملات کو براہ راست دیکھ رہے ہیں اور ذاکر خان سوالے سیر سپاٹوں کے کچھ نہیں کر رہے .یوں اگر یہ کہا جائے کہ یہ دونوں خصرات پی سی بی میں مفت کی روٹیاں توڑ رہے اور اسکی معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں تو جھوٹ نہیں ہوگا .
کفایت شعاری کی رٹ لگا کر سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد نصف کرنے جارہے پی سی پی چئیرمین احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان کو کر کٹ کے کھیل سے وابسطہ کھلاڑیوں کی تنخواہیں تو نظر آگئی ہیں مگر انہیں سبحان احمد کی صورت میں پی سی بی میں بیٹھے ہوئے چیف آپریٹنگ آفیسر ، ڈائر یکٹر انٹر نیشنل کر کٹ مسٹر ذاکر خان اوران جیسے مفت برے نظر نہیں ارہے جو مفت میں روٹیاں توڑنے میں لگے ہوئے اور پی سی بی سے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور مراعات وصول کر رہے ہیں. دوسری جانب مسٹر مانی کی جانب سے چئیر مین کا چارج لینے کے بعد لائے گئے افسران جن میں ایم ڈی وسیم خان کے علاوہ پی سی بی میڈیا ڈیپارتمینٹ کے سربراہ سمیع برنی شامل ہیں کی بھی پانچوں گھی اور سر کڑاھی میں ہے .کی تنخواہیں احسان مانی کو نظر نہیں آرہیں.
ایسے میں پی سی بی ملازمین اندر ہی اندر ان دونوں کی ہوش ربا تنخواہوں کو لیکر احسان مانی سے خوش نہیں اور انکا کہنا ہے کہ ایک جانب تو مسٹراحسان مانی بچتوں کا واویلا کر رہے ہیں اور دوسری جانب اپنے چہتوں کو نواز رہے ہیں. باقی پی سی بی ملازمین انکی تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں جبکہ چئیرمین کے منظور نظر افراد کی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں . اور اب سینٹرل کنٹریکٹ میں بھی کھلاڑیوں میں سے نصف کے قریب کی چھٹی کرانے کی باتیں کی جارہی ہے. پی سی بی کے اندر بیٹھے ہوئے باقدین کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر سبحان احمد اور ذاکر خان سے کوئی کام نہیں لینا تو انہیں بھی فارغ کریں . اور جب سی ای او آہی گئے ہیں اور وہ اتنے شاندار ہیں کہ سب معاملات انہوں نے ہی چلانے ہیں تو مسٹراحسان مانی کی چئیرمینی کی بھی ضرورت نہیں وہ بھی پی سی بی پر خوامخواہ کا بوجھ ہیں. لہذا انہیں بھی آف لوڈ ہو جانا چاہیے.