تازہ ترین
بنیادی صفحہ / کرکٹ / ورلڈکپ جیتنے کیلئے انگلینڈ ٹیم ھارٹ فیورٹ اور فائنل کے روز اصغر علی مبارک کا شادی کا فیصلہ

ورلڈکپ جیتنے کیلئے انگلینڈ ٹیم ھارٹ فیورٹ اور فائنل کے روز اصغر علی مبارک کا شادی کا فیصلہ

تحریر۔۔اصغر علی مبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیتنے کیلئےمیزبان انگلینڈ کی ٹیم ھاٹ فیورٹ قرار دی جا رہی ہے جس لیگ میچ میں پاکستان نے شکست سے دوچار کیا تھا۔فائنل میچ 14 جولائی کو لندن، لارڈز میں کھیلا جائے گا ۔کرکٹ ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی۔ ورلڈ کپ کے تمام ایڈیشنز میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دو ایسی ٹیمیں ہیں جو اب تک کوئی بھی ورلڈ کپ اپنے نام نہیں کر سکیں۔اور 6
14 جولائی کو لارڈ ز کے میدان پر ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں جیت جس بھی ٹیم کا مقدر بنی، تاریخ ضرور رقم ہو گی۔
انگلینڈ اب تک تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیل چکا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کا یہ لگاتار دوسرا فائنل ہے
نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو اب تک کھیلے گئے 90 میچوں میں سے 43 میں شکست دے رکھی ہے۔ جبکہ ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی نیوزی لینڈ کا پلڑہ بھاری رہا ہے۔ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے نو میچوں میں نیوزی لینڈ نے پانچ جبکہ انگلینڈ نے چار میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انگلینڈ نے تین جولائی کو اس ورلڈ کپ کے راؤنڈ روبن مرحلے میں اپنے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف باآسانی 119 رنز سے فتح حاصل کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی۔
اس میچ میں انگلینڈ کے اوپنرز نے ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کیا جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ نے ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم انڈیا کو ہرایا ہے۔دونوں ٹیموں میں سے جو بھی جیتے گی وہ ورلڈ کپ میں تاریخ ضرور رقم کرےگی۔ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست فاش دی، انگلش ٹیم نے آسٹریلیا کی جانب سے دیا گیا 224 رنز کا ہدف صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
ایجبیسٹن میں انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد پہلی مرتبہ فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
آسٹریلیا نے اچھی پچ پر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ شاید انگلینڈ نے ٹاس پر ہی میچ ہار دیا ہے۔
لیکن انگلینڈ کے بولرز کرس ووکس اور جوفرا آرچر نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوتے صرف 15 رنز پر انگلینڈ کے تین کھلاڑی پویلین لوٹا دیے۔
ایسے میں سٹیو سمتھ اور ایلیکس کیری نے سنچری شراکت قائم کر کے آسٹریلیا کی امیدیں بحال کیں لیکن عادل رشید نے یکے بعد دیگرے ایلیکس کیری اور مارکس سٹوائنس کو آؤٹ کر کے میچ کا پانسہ بدل دیا۔آسٹریلیا کی جانب سے سٹیو سمتھ نے 115 گیندوں پر 85 رنز کی اچھی اننگز کھیلی۔ جبکہ کرس ووکس اور عادل رشید نے تین تین جبکہ جوفرا آرچر نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
جواب میں انگلینڈ کے اوپنرز جونی بیئرسٹو اور جیسن رائے نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہر کرتے ہوئے 124 رنز کی شاندار شراکت قائم کی اور انگلینڈ کی فتح کو یقینی بنایا۔ جبکہ جو روٹ 49 اور اوئن مارگن 45 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ اتوار کو ٹرافی کے قبضے کی جنگ لڑیں گے، دونوں ٹیمیں ایک بار بھی عالمی کپ نہیں جیت سکیں جب کہ انگلش ٹیم 40 سال بعد اپنی سرزمین پر ورلڈکپ کا فائنل کھیل رہی ھے۔میزبان انگلینڈ دفاعی عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو مکمل آئوٹ کلاس کر کے ورلڈکپ فائنل میں جگہ بنالی۔ ھوم گرائونڈ پر انگلینڈ تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ جیتنے کے لئے ھاٹ فیورٹ ہے ۔1979میں انگلینڈ کو فائنل میں ویسٹ انڈیز نے شکست دی تھی جبکہ 1992کے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔96 میں لاہور میں سری لنکا نے پہلی بار ورلڈ کپ جیتا تھا۔ ۔ دونوں ٹیمیں گروپ
میچوں میں پاکستان سے شکست سے دوچار ہوچکی ہیں
نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی تاریخ میں دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچی ۔ نیوزی لینڈ نے میگا ایونٹ کے پہلے سیمی فائنل میچ میں بھارت کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 18 رنز سے شکست دیکر میگا ایونٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ۔ اس سے قبل آسٹریلیا میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 2015ءکے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل بھی کھیل چکی ہے تاہم اس قبل آسٹریلیا نے اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا تھادو دنوں پر محیط ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے آغاز میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن ایسے میں کپتان کین ولیمسن کے 67 رنز اور راس ٹیلر کے 74 رنز کی شاندار اننگز نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کو تباہی سے بچا لیا۔ لیکن 47ویں اوور میں بارش کے باعث کھیل اضافی دن تک ملتوی کرنا پڑا۔
نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز مکمل کرتے ہوئے انڈیا کو 240 رنز کا ہدف دیا جبکہ انڈیا کی جانب سے بھونیشور کمار نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔بظاہر
ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا باآسانی اس ہدف کا تعاقب کر لے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور انڈیا کو آغاز میں ہی یکے بعد دیگرے تین نقصان اٹھانے پڑے جس کے بعد انڈیا کی بیٹنگ سنبھل نہ سکی۔
لیکن پھر ایک ایک موقع ایسا آیا جب ایم ایس دھونی اور رویندرا جڈیجا نے مل کر 116 رنز کی شراکت قائم کی تو انڈیا کی فتح یقینی دکھائی دینے لگی۔ لیکن نیوزی لینڈ کی عمدہ بولنگ اور فیلڈنگ کے باعث ایسا نہ ہو سکا اور انڈیا کو 18 رنز سے شکست اٹھانا پڑی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے میٹ ہینری سب سے تین وکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی میچ قرار پائے۔ دوسری جانب پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑی وطن واپس پہنچ گئے اور شکست کو بدقسمتی قرار دیا ہے
اس بار پھرپاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ کا مشن ،مشن امپوسیبل ثابت ہوا جس پر ۔شائقین کرکٹ مایوس ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلی سرکار سے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ورلڈ کپ میں پاکستان کو جیت کے ساتھ ساتھ اپنے رن ریٹ کو بھی بہتر بنانا تھا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کےناک آوٹ ہونےکے بعد دفاعی چیمپین آسٹریلیا، بھارت، میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے آخری چار پوزیشن کے لئے کوالی فائی کیا تھا۔پاکستان کی عالمی ون ڈے رینکنگ میں چھٹی پوزیشن ہے اور اس نے ٹورنامنٹ میں پانچویں نمبر پر اختتام کیا ھے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ دوسری بار جیتنےکا خواب بنگلہ دیش کے آخری گروپ میچ سے پہلے چکناچور ہوگیا۔
ہوم آف کرکٹ میں پاکستان کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لئے ناممکن چیلنج کا سامنا تھا۔پاکستان کو بھاری اور ریکارڈ مارجن سے فتح کے ساتھ ساتھ اپنے نیٹ رن ریٹ کو بھی بہتر بنانا تھا، سرفراز احمد نے میچ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ یہ ٹارگٹ ممکن نہیں پاکستان نے1992کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔آٹھ سال قبل پاکستان نے آخری ورلڈ کپ سیمی فائنل2011میں موہالی بھارت میں کھیلا تھا۔ سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا سفر آخری گروپ میچ سے قبل ختم ہوگیا، لیکن نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لئے پاکستان کو ناممکن کو ممکن بنانا تھا۔
اعدا د وشمار کے مطابق پاکستان پہلے کھیلتا اور 400 رنز بناتا اور بنگلادیش کو 84 رنز پر آؤٹ کردیتا تو پھر 316 کے مارجن سے کامیابی حاصل کرتا، ایساآج تک ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا اور خاص طور پر ورلڈکپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں۔
یہ مارجن اسکور کے لحاظ سے بدل جائے گا لیکن پاکستان کو نیوزی لینڈ سے اوپر جانےاور سیمی فائنل میں کوالیفائی کرنے کے لیے کے لیے نا ممکن کو ممکن بنانا تھا لیکن نئی تاریخ رقم نہ ہوئی۔
پاکستان اگر پہلے بیٹنگ میں 350 اسکور کرتا اور بنگلہ دیش کی ٹیم کو 311 رنز سے ہرادیتا تو قومی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتی تھی۔ اسی طرح اگر پاکستانی بیٹسمین پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 450 رنز کا ہندسہ عبور کر تے ہیں تو اسے 321 رنز سے میچ جیتنا تھا۔اس کے علاوہ اگر قومی ٹیم ناقابل یقین 500 رنز بنانے میں کامیاب ہوجاتی تو اسے یہ میچ 326 رنز سے جیتنا تھا۔ دوسری جانب ورلڈ کپ کو یادگار بنانےکیلئے راقم الحروف نے فائنل کے موقع پر اپنی پہلی شادی کا فیصلہ گولڈن جوبلی سالگرہ پرکیا۔پاکستانی صحافی اصغر علی کی شادی اب ورلڈ کپ کے فائنل کے موقع پر ھوگی پاکستانی جرنلسٹ کو 1996 ورلڈ کپ کے دوران عالمی سطح پر پذیرائی اس وقت ملی جب انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان مائیک اتھرٹن سے ایک ناخوشگوار واقعہ کے بعد ذاتی زندگی متاثر ھوئی اور ان کی منگنی ٹوٹ گئی دلچسپ حقیقت یہ ھے کہ صرف 6 روز قبل آنے والے ایک رشتہ کی بات پکی ہوئی بلکہ شادی کو یاد گار بنانے کیلئے فائنل میچ کے دن کا انتخاب کیا گیاھے اصغر علی مبارک نے بتایا کہ شادی کی تقریب میں ان قریبی رشتہ دار جرنلسٹس ۔ڈی جی آئی ایس پی آر۔وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور دیگر کو مدعو کیا گیا ھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لڑکی طیبہ کرن کی پیدائش کا سال وہی ھے جب پاکستان ورلڈ کپ 92 جیتا تھا۔ کرن نے انگلش لٹریچر کررکھاھےورلڈ کپ 2019کےآغاز پر پاکستانی صحافی اصغر علی نے اپنی گولڈن جوبلی سالگرہ پر کہاتھا کہ سالگرہ کو یاد بنانے منصوبہ بندی کی تھی مگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نےسابقہ معاملہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکریڈیشن جاری نہ کرکے نسلی استحصال کا نشانہ بنایا ، میزبان کرکٹ بورڈ کی ایما پر آئی سی سی نے 1996 ورلڈ کپ کے واقعہ سے شہرت پانے والے پاکستانی صحافی اصغر علی کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم واقعہ کے دوران انگلش کپتان مائیک اتھرٹن نے نازیبا کلمات ادا کیے جس پر اسلام آباد کی عدالت میں ھتک عزت مقدمہ کر رکھا تھا جس میں طلبی کے نوٹس بھی جاری ھوئے اور وکلاء کے ذریعے تحریری معافی نامےکے بعد جان چھوٹی مگر اس سے قبل اصغر علی مبارک کو منہ بند کرنے کیلئے پی سی راولپنڈی میں انگلینڈ ٹیم کے آفیسر نے رشوت کی پیشکش کرکے ٹریپ کرنے کی کوشش کی جس اصغرعلی نے میڈیا کو آگاہ کردیا انہوں نے کہا اس واقعہ سے میری ذاتی کاروباری سماجی ذندگی متاثر ھوئی اور میری منگنی ٹوٹ گئی جسکے بعد سے شادی التوا میں تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بات بھی بیان کی گئی تھی اصغر علی نے کہا کہ صد افسوس گورے آج بھی پاکستانی کو اپنی کالونی سمجھ کر برتاو کرتے ہیں میں ملک قوم اور میڈیا کے وقار و عظمت کی خاطر کسی بات پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا میرے نزدیک زندگی میں عزت سے زیادہ کوئی شے نہیں اور میں آج بھی مطمئن ھوں اوردوسروں کے لئے مثال قائم کی کہ اصولوں پر ڈٹ جانا ھی زندگی کا بڑا مقصد ھے انہوں نے کہا تمام تر ضروریات کو پورا کرنے کے باوجود میزبان ملک کی طرف سے یہ رویہ ناقابل فہم ھے آئی سی سی کے ذریعہ آخری لمحات میں انکار سے لاکھوں کا نقصان ہوا تک انکار کر دیا گیا تھا. ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی صحافی اصغر علی نے کہا کہ ورلڈ کپ کے تاریخی موقع آئی سی سی کا میڈیا کے سینئر جرنلسٹ سے رویہ قابل مذمت ھے. پاکستانی صحافی اصغر علی مبارک نے کہا کہ “میں آخری لمحات ایکریڈیشن منظوری سے انکارپر حیران ہوں.” یہاں تک کہ میں نےمیگا رھا ایونٹ کی کوریج کو پیدائش کے دن سے منسلک کیا اورانگلینڈ میں دوست تمام انتظامات مکمل کر چکے تھے.انہوں نے کہا کہ یہ میرے ساتھ مکمل طور پر امتیازی سلوک ہے. ” کرکٹ ورلڈ کپ 1996 کے دوران اس کے بعد میچ کے واقعات کو جلد کتاب کی صورت میں منظر عام پر لاؤںگا جائزہ لیا گیا . اصغر علی مبارک نے بتایا کہ انگلینڈ کا کپتان مائیک اتھرٹن راولپنڈی میں سب کچھ کھو دیا. راولپنڈی اسٹیڈیم میں کہا تھاکہ “کیا کوئی اسے یہاں سےنکال سکتا ہے؟” فروری 25، 1996 انگلینڈ بمقابلہ جنوبی افریقہ میچ میں یہ ناخوشگوار واقعہ ھوا جس پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا پاکستانی صحافی نے کہا کہ “1996 میں ورلڈ کپ کے واقعے کے بعد” میری ذاتی، پیشہ ورانہ اور مالی زندگی بہت متاثر ہوئی۔ اصغر علی نے یہ بھی دعوی کیاکہ بھارت کے آخری دورے کے دوران،”میں نے آسیہ صدیقی جو کہ کرکٹر شعیب ملک کی سابق منگیتر رھی رابطہ کرکے پیش کش کی لیکن اس سے کوئی جواب نہیں ملا. انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر کتاب، پی پی اے پبلیکیشنز کے پاس ذیر اشاعت ھے جس میں دلچسپ واقعات وغیرہ شامل ہیں: کتاب میں جنوبی افریقہ کے آنجہانی کپتان ہنسئی کرونجے ۔ سری لنکا کے 1996 ورلڈ کپ فاتح کپتان ارجنا راناٹنگا اور دیگر کے تبصرے بھی شامل ھیں 1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران میچ کے بعد پریس کانفرنس میں پاکستانی صحافی کے سوال پر انگلینڈ کے کپتان اس وقت سیخ پا ھوگئےتھے جب ان کی ٹیم راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں 78 رنز سے جنوبی افریقہ سے اھم میچ ھاگئی تھی انگلش کپتان صرف چار گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد آوٹ ھوگئےتھے۔.