تازہ ترین
بنیادی صفحہ / دیگر سپورٹس / 33 ویں نیشنل گیمزکا افتتاح وزیر اعلی کے پی کے محمود خان نے کردیا.افتتاحی تقریب بد انتظامی کا شکار.ایکریڈیشن کارڈ نہ ملنے کے باعث آفیشلز و کھلاڑی تقریب میں شرکت سے محروم.

33 ویں نیشنل گیمزکا افتتاح وزیر اعلی کے پی کے محمود خان نے کردیا.افتتاحی تقریب بد انتظامی کا شکار.ایکریڈیشن کارڈ نہ ملنے کے باعث آفیشلز و کھلاڑی تقریب میں شرکت سے محروم.

پشاور:10نومبر2019(سپورٹس ورلڈ نیوز) 33ویں نیشنل گیمز کی افتتاحی تقریب بد انتظامی کا شکار .متعدد آفیشلز و کھلاڑی ایکریڈیشن کارڈ نہ ملنے کے باعث افتتاحی تقریب میں شرکت سے محروم ہوگئے.تفصیلات کے مطابق پشاور میں جاری 33 ویں نیشنل گیمز 2019کا افتتاح وزیر اعلی کے پی کے محمود خان نے کیا.جس کے بعد قیوم اسپورٹس کمپیلکس پشاور میں 33ویں نیشنل گیمز کے آغاز پر آتش بازی کا بھی مظاہرہ کی گیا.اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر محمود,اولمپیئن نوید عالم,اسکوائش لیجنڈ جہانگیر خان سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات نے گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی.9 سال کے بعد خیبر پختونخوا میں ہونے والے کھیلوں کے ان مقابلوں میں ملک بھر سے 10 ہزار کھلاڑی شرکت کررہے ہیں.جبکہ دوسری جانب افتتاحی تقریب بدانتظامی کا شکار ہوگئی.متعدد ٹیم آفیشلز و کھلاڑی ایکریڈشن کارڈ نہ ملنے کے باعث افتتاحی تقریب میں شرکت سے محروم ہوگئے. متعلقہ صوبائی اولمپک عہدیدار اپنی دھن میں مگن رہے.دو دن گزرنے کے باوجود آفیشلز و کھلاڑی ڈیلیز سے محروم. اپنی جیب سے کھانا کھانے پر مجبور.سندھ وومن ہاکی ٹیم میں اندرونی انتشار کے باعث ناخوشگوار واقع کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے.جبکہ مردوں کی سندھ ہاکی ٹیم کا دستہ جو کہ 18 رکنی کھلاڑیوں پر مشتمل ہے.ٹیم کو صرف 14 کھلاڑیوں کی کٹس دی گئیں.جس میں پلیئنگ کٹ شامل نہیں.جس کی باعث کھلاڑیوں میں شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے.سیکوریٹی کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش رہی البتہ قطر ہوٹل کے باہر سیکوریٹی کی موجودگی میں مبینہ طور پر کھلاڑی سے موبائل چھیننے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے.واضح رہے کہ 33 ویں نیشنل گیمز 11 نومبر سے 16 نومبر تک پشاور میں جاری رہیں گے۔